مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ إِنَّكَ إِنْ تَسْجُدَهُمَا فِيمَا لَيْسَ عَلَيْكَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمَا فِيمَا عَلَيْكَ · حديث 3530
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ درَافِسَ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ، فَلَمَّا سَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا شَأْنُكَ يَا أَبَا عِمْرَانَ؟ قَالَ: «خَشِيتُ أَنْ أَكُونَ سَهَوْتُ» قَالَ: قُلْتُ: لَوْ سَهَوْتَ لَسَبَّحْنَا قَالَ: «خَشِيتُ أَنْ تَكُونُوا نَسِيتُمْ كَمَا نَسِيتُ» عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
یونس بن درافس بیان کرتے ہیں:میں نے ابراہیم نخعی کے پیچھے شام کی کوئی نماز ادا کی تو جب اُنہوں نے سلام پھیرا تو دو مرتبہ سجدہ سہو کیا میں نے کہا: اے ابو عمران! آپ کا کیا معاملہ ہے ؟ اُنہوں نے کہا: مجھے یہ اندیشہ ہے کہ مجھے سہو ہو گیا تھا ۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا : اگر آپ کو سہو ہوا ہوتا تو ہم سبحان اللہ کہہ دیتے ۔ اُنہوں نے کہا: مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ تم لوگ بھی اُسی طرح بھول گئے ہو گے جس طرح میں بھول گیا ۔
يُونُسُ بن درَافِسَ، ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door is that if you kneel to them when it is not for you, it is better for you than to leave them with regard to you · Hadith 3530
