مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصِّيَامِ ‹ بَابُ إِفْطَارِ التَّطَوُّعِ وَصَوْمِهِ إِذَا لَمْ يُبَيِّتْهُ · حديث 7767
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ «كَانَ لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا أَنْ يُفْطِرَ إِنْسَانٌ التَّطَوُّعَ، وَيَضْرِبُ لِذَلِكَ أَمْثَالًا، رَجُلٌ طَافَ سَبْعًا فَقَطَعَ وَلَمْ يُوَفِّهِ فَلَهُ مَا احْتَسَبَ، أَوْ صَلَّى رَكْعَةً وَلَمْ يُصَلِّ أُخْرَى قَبْلَهَا فَلَهُ مَا احْتَسَبَ، أَوْ يَذْهَبُ بِمَالٍ يَتَصَدَّقُ بِهِ، وَيَتَصَدَّقُ بِبَعْضِهِ، وَأَمْسَكَ بَعْضَهُ»
عطا ء بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عباس اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ آدمی نفلی روزہ ختم کر دے وہ اس کی مختلف مثالیں بیان کیا کرتے تھے ایک شخص سات مرتبہ طواف کرنا چاہتا ہے لیکن وہ درمیان میں اسے منقطع کر دیتا ہے اسے پورا نہیں کرتا تو اُس نے جو عمل کیا ہے اس کا ثواب اُسے مل جائے گا یا ایک شخص ایک رکعت ادا کرتا ہے اور دوسری رکعت اس سے نہیں ملاتا اُسے اُس کا ثواب ملے گا جو اُس نے کام کیا ہے یا ایک شخص اپنا مال لے کر صدقہ کرنے کے لیے جاتا ہے اور اُس کا کچھ حصہ صدقہ کرتا ہے اور کچھ حصہ روک لیتا ہے۔
ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 7767
