مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ: فِي كَمْ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ · حديث 4296
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: أَقْصُرُ الصَّلَاةَ إِلَى عَرَفَةَ أَوْ إِلَى مِنًى؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنْ إِلَى الطَّائِفِ وَإِلَى جُدَّةَ، وَلَا تَقْصُرُوا الصَّلَاةَ إِلَّا فِي الْيَوْمِ التَّامِّ، وَلَا تَقْصُرْ فِيمَا دُونَ الْيَوْمِ، فَإِنْ ذَهَبْتَ إِلَى الطَّائِفِ أَوْ إِلَى جُدَّةَ أَوْ إِلَى قَدْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَرْضِ، إِلَى أَرْضٍ لَكَ أَوْ مَاشِيَةٍ فَاقْصُرِ الصَّلَاةَ، فَإِذَا قَدِمْتَ فَأَوْفِ»
عطا ء بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس سے سوال کیا میں نے کہا : کیا میں عرفہ یا منیٰ کی طرف جاتے ہوئے نماز کو قصر کروں گا ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! لیکن تم طائف کی طرف جاتے ہوئے یا جدہ کی طرف جاتے ہوئے نما ز کو قصر نہیں کرو گے اگر تم طائف جاتے ہو یا جدہ جاتے ہو یا اتنی مسافت کا کوئی اور سفر کرتے ہو خواہ وہ تمہاری اپنی سر زمین ہو یا تمہارے اپنے مال مویشی ہوں جب تم واپس آجاؤ گے تو نماز کو مکمل ادا کرو گے ۔
سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: أَقْصُرُ الصَّلَاةَ إِلَى عَرَفَةَ أَوْ إِلَى مِنًى؟ ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Bab: How short is the prayer? · Hadith 4296
