مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ · حديث 5339
عَبْدُ الرَّزَّاقِ لَعَلَّهُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَوِ ابْنِ الْأَعْرَابِيِّ شَكَّ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ قَالَ: «إِنَّمَا كَانَ الْأَذَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيمَا مَضَى وَاحِدًا قَطُّ ثُمَّ الْإِقَامَةُ، فَكَانَ ذَلِكَ الْأَذَانُ يُؤَذَّنُ بِهِ حِينَ يَطْلُعُ الْإِمَامُ فَلَا يَسْتَوِي الْإِمَامُ قَائِمًا حَيْثُ يَخْطُبُ حَتَّى يَفْرُغَ الْمُؤَذِّنُ أَوْ مَعَ ذَلِكَ، وَذَلِكَ حِينَ يَحْرُمُ الْبَيْعُ، وَذَلِكَ حِينَ يُؤَذِّنُ الْأَوَّلُ، فَأَمَّا الْأَذَانُ الَّذِي يُؤَذَّنُ بِهِ الْآنَ قَبْلَ خُرُوجِ الْإِمَامِ وَجُلُوسِهِ عَلَى الْمِنْبَرِ فَهُوَ بَاطِلٌ»، وَأَوَّلُ مَنْ أَحْدَثَهُ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ
عطا ء فرماتے ہیں: جمعہ کے دن اذان پہلے زمانہ میں صرف ایک ہی ہوتی تھی پھر اُس کے بعد اقامت کہی جاتی ہے اور یہ اذان اُس وقت دی جاتی تھی جب امام آجاتا تھا تو امام کے خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہونے سے پہلے یا اُس کے ساتھ ہی مؤذن اذان دے کر فارغ ہو تا تھا یہ وہ وقت تھا جس میں خرید وفروخت حرام ہو جاتی ہے اور یہ وہ وقت تھا جس میں پہلی اذان دیتا تھا جہاں تک اُس اذان کا تعلق ہے جو آج کل امام کے آنے سے اور اُس کے منبر پر بیٹھنے سے پہلے دی جاتی ہے تو یہ باطل ہے اس کا آغاز حجاج بن یوسف نے کیا تھا۔
عَطَاءٍ، ← ابْنِ جُرَيْجٍ أَوِ ابْنِ الْأَعْرَابِيِّ شَكَّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ لَعَلَّهُ
Musannaf Abdul Razzaq · The Friday Book › The door to the prayer on Friday · Hadith 5339
