مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ مَسْحِ الْحَصَا · حديث 2397
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: كَانَ يُنْهَى عَنْ مَسْحِ التُّرَابِ لِلْوَجْهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، وَيُقَالُ: «إِذَا رَأَيْتَ شَيْئًا تَكْرَهُهُ فَأَخِّرْهُ»، قُلْتُ: أَيُّ شَيْءٍ؟ قَالَ: «قَدْ سَمِعَنْا ذَلِكَ، وَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنَ لَا تَمْسَحَهَا»، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ لَوْ مَسَحْتُ؟ قَالَ: «فَلَا تَعُدْ، وَلَا تَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ»
- ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا : کیا چہرے سے مٹی پونچنے سے منع کیا گیا ہے ؟ اُنہوں نے کواب دیا: جی ہاں! یہ بات بیان کی جاتی ہے جب تم کوئی ایسی چیز دیکھو جسے تم ناپسند کرتے ہو تو اُسے پرے کر دو ۔ میں نے دریافت کیا: کون سی چیز کی وجہ سے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: ہم نے یہ بات سنی ہے اور میرے نزدیک بھی یہ بات زیادہ پسندیدہ ہے تو اُسے نہ پونچھو ۔ میں نے کہا: اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے اگر میں پونچھ لیتا ہوں؟ اُنہوں نے فرمایا: تم دوبارہ ایسا نہ کرنا البتہ اس کی وجہ سے سجدہ سہو کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
«فَلَا تَعُدْ، وَلَا تَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ» ← ذَلِكَ، وَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنَ لَا تَمْسَحَهَا»، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ لَوْ مَسَحْتُ؟ ← قَدْ ← «نَعَمْ»، وَيُقَالُ: «إِذَا رَأَيْتَ شَيْئًا تَكْرَهُهُ فَأَخِّرْهُ»، قُلْتُ: أَيُّ شَيْءٍ؟ ← مَسْحِ التُّرَابِ لِلْوَجْهِ؟ ← قُلْتُ لِعَطَاءٍ: كَانَ يُنْهَى ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The section of the wiping of gravel · Hadith 2397
