مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ الِاسْتِيذَانِ · حديث 5507
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: سَأَلَ إِنْسَانٌ مَكْحُولًا، وَأَنَا أَسْمَعُ وَهُوَ جَالِسٌ مَعَ عَطَاءٍ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ: {إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ} [النور: 62] حَتَّى قَوْلِهِ {وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَى أَمْرٍ جَامِعٍ} [النور: 62] هَذِهِ الْآيَةُ، فَقَالَ مَكْحُولٌ «يُعْمَلُ بِهَا الْآنَ، فَيَنْبَغِي أَنْ لَا يَذْهَبَ أَحَدٌ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَلَا فِي [ص:243] الزَّحْفِ حَتَّى يْسَتَأَذِنَ الْإِمَامَ» قَالَ: وَكَذَلِكَ فِي أَمْرٍ جَامِعٍ، أَلَا تَرَاهُ يَقُولُ: «وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَى أَمْرٍ جَامِعٍ»، فَقَالَ عَطَاءٌ عِنْدَ ذَلِكَ: قَدْ أَدْرَكْتُ لَعَمْرِي النَّاسَ فِيمَا مَضَى يَسْتَأْذِنُونَ الْإِمَامَ إِذَا قَامُوا وَهُوَ يَخْطُبُ، قُلْتُ: كَيْفَ رَأَيْتَهُمْ يَسْتَأْذِنُونَ؟ قَالَ: يُشِيرُ الرَّجُلُ بِيَدِهِ، فَأَشَارَ لِي عَطَاءٌ بِيَدِهِ الْيُمْنَى، قُلْتُ: يُشِيرُ وَلَا يَتَكَلَّمُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: الْإِمَامُ إِذَا أَذِنَ؟ قَالَ: يُشِيرُ وَلَا يَتَكَلَّمُ، قُلْتُ: وَلَا يَضَعُ الْإِنْسَانُ يَدَهُ عَلَى أَنْفِهِ وَلَا عَلَى ثَوْبِهِ؟ قَالَ: لَا
ابن جریح بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے مکحول سے سوال کیا میں یہ بات سن رہا تھا اور مکحول اُس وقت عطا ء کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا: بے شک ایمان والے وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ آیت یہاں تک ہے اور جب وہ لوگ اُس کے ساتھ جامع معاملہ پر ہوں ۔ تو مکحول نے کہا: اس پر ابھی عمل کیا جا تا ہے مناسب یہ ہے کہ کوئی بھی شخص جمعہ میں شرکت کے لیے یا جنگ میں شرکت کے لیے اُس وقت تک نہ جائے جب تک امام سے اجازت نہیں لیتا ۔ اُس نے دریافت کیا: جمع ہونے والے معاملہ سے مراد یہی ہے ؟ کیا آپ نے اُنہیں یہ کہتے ہوئے نہیں سنا ۔ اور جب وہ لوگ اُس کے ساتھ کسی جامع معاملہ پر ہوں۔ ا س موقع پر عطا ء نے کہا: مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ! میں نے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو پایا ہے کہ جب امام کھڑا ہو کر خطبہ دے رہا ہو تا تھا تو وہ امام سے اجازت لیتے تھے ۔ میں نے دریافت کیا: آپ نے اُن لوگوں کو کیسے اجازت حاصل کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: ایک شخص اپنے ہاتھ کے ذریعہ اشار ہ کرتا تھا ۔ پھر عطا ء نے اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعہ اشارہ کر کے مجھے بتایا ۔ میں نے دریافت کیا: کیا وہ اشارہ کرتا تھا کلام نہیں کرتا تھا ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! میں نے دریافت کیا: تو کیا امام اجازت دے دیتا تھا ؟ اُنہوں نے جواب دیا: وہ بھی اشارہ کرتا تھا کلام نہیں کرتا تھا ۔ میں نے دریافت یا: کیا انسان اپنے ناک پر یا کپڑے پر ہاتھ نہیں رکھے گا ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں!
سَأَلَ إِنْسَانٌ مَكْحُولًا، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 5507
