مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الرَّجُلِ يَدْعُو وَيُسَمِّي فِي دُعَائِهِ · حديث 4027
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ: «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ قَالَ: «اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا»، دَعَا عَلَى نَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ} [آل عمران: 128]
سالم نے حضرت عبداللہ بن عمر کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ اُنہوں نے نبی اکرمﷺ کو فجر کی نماز میں رکوع سے سر اُٹھنے کے بعد یہ کہتے ہوئے سنا : ربنا ولک الحمد ! جبکہ دوسری رکعت میں اُنہوں نے نبی اکرمﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا : اے اللہ ! فلاں پر اور فلاں پر لعنت کر ! نبی اکرمﷺ نے منافقین سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے خلاف دعائے ضرور کی تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : تمہارا اس معاملہ میں کوئی واسطہ نہیں ہے خواہ اللی تعالیٰ انہیں تونہ کی توفیق دے یا انہیں عذاب دے بے شک یہ لوگ ظالم ہیں۔
«اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا»، دَعَا عَلَى نَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ ← رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ ← النَّبِيَّ قَامَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ← ابْنِ عُمَرَ:أَنَّہُ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Man’s door calling and names in his supplications · Hadith 4027
