مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الصَّلَاةِ فِي بَيْتِهِ لَا يَدْرِي أَطَاهِرٌ أَمْ لَا؟ · حديث 1532
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَعْمِدُ مَكَانًا مِنْ بَيْتِي لَيْسَ فِيهِ مَسْجِدٌ، لَا أَعْلَمُ بِهِ بَأْسًا فَأُصَلِّي فِيهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: وَلَا أَرُشُّ؟ قَالَ: «لَا، إِلَّا أَنْ تَخْشَى أَنْ يَكُونَ بِهِ بَأْسٌ، فَإِنْ شِئْتَ فَارْشُشْهُ»
ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے در یافت کیا : میں گھر میں کسی ایسی جگہ پر جاتا ہوں جہاں جائے نماز نہیں ہے اور مجھے اس میں کسی حرج کا علم نہیں ہے کیا میں وہاں نماز ادا کر لوں؟ تو اُنہوں نے جواب دیا : جی ہاں! میں نے دریافت کیا : کیا میں وہاں پانی نہ چھڑکوں؟ تو اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں! البتہ اگر تمہیں اندیشہ ہے کہ وہاں کوئی حرج ہو گا تو تم وہاں پانی چھڑک لو۔
ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 1532
