مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الصَّلَاةِ الَّتِي تُكَفِّرُ · حديث 5004
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «أَلَا أَهَبُ لَكَ؟ أَلَا أَمْنَحُكَ؟ أَلَا أَحْذُوكَ؟ أَلَا أُوثِرُكَ؟ أَلَا؟ أَلَا؟» حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيَقْطَعُ لِي مَاءَ الْبَحْرَيْنِ قَالَ: " تُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَسُورَةً، ثُمَّ تَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَعُدَّهَا وَاحِدَةً حَتَّى تعُدَّ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً، ثُمَّ تَرْكَعُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا وَأَنْتَ رَاكِعٌ، ثُمَّ تَرْفَعُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا وَأَنْتَ رَافِعٌ، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا وَأَنْتَ سَاجِدٌ، ثُمَّ تَرْفَعُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا وَأَنْتَ جَالِسٌ، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا وَأَنْتَ سَاجِدٌ، ثُمَّ تَرْفَعُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا وَأَنْتَ جَالِسٌ، فَتِلَكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ، وَفِي الثَّلَاثِ الْأَوَاخِرِ كَذَلِكَ، فَذَلِكَ ثَلَاثُ مِائَةِ مَجْمُوعَةٍ، وَإِذَا فَرَّقْتَهَا كَانَتْ أَلْفًا وَمِائَتَيْنِ ـ وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يَقْرَأَ السُّورَةَ الَّتِي بَعْدَ أُمِّ الْقُرْآنِ عِشْرِينَ آيَةً فَصَاعِدًا ـ تَصْنَعُهُنَّ فِي يَوْمِكَ أَوْ لَيْلَتِكَ، أَوْ جَمْعَتِكَ، أَوْ فِي شَهْرٍ، أَوْ فِي سَنَةٍ، أَوْ فِي عُمْرِكَ، فَلَوْ كَانَتْ ذُنُوبُكَ عَدَدَ نُجُومِ السَّمَاءِ، أَوْ عَدَدَ [ص:124] الْقَطْرِ، أَوْ عَدَدَ رَمْلِ عَالِجٍ، أَوْ عَدَدَ أَيَّامِ الدَّهْرِ لَغَفَرَهَا اللَّهُ لَكَ "
حضرت جعفر بن ابو طالب بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے اُن سے فرمایا: کیا میں تمہیں کوئی چیز ہبہ نہ کروں! کیا میں تہیں کوئی تحفہ نہ دوں ! کیا میں تمہیں کوئی چیز نہ دوں! کیا میں وہ نہ کروں؟ راوی کہتے ہیں: یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ شاید نبی اکرمﷺ بحرین کا پانی مجھے جاگیر کے طور پر دے دیں گے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم چار رکعات ادا کرو جن میں ہر ایک رکعت میں سورہ فاتحہ اور ایک سورت کی تلاوت کرو پھر الحمدللہ سبحان اللہ اللہ اکبر لا الہٰ الا اللہ پڑھو اور تم اسے اایک ایک کر کے گن کے پندرا مرتبہ پڑھو پھر تم رکوع میں جاؤ اور رکوع کی حالت میں ان کو دس مرتبہ پڑھو پھر تم اُٹھو اور ان کلمات کو بیٹھ کر دس مرتبہ پڑھو پھر تم سجدہ میں جاؤ اور سجدہ کی حالت میں ان کو دس مرتبہ پڑھو پھر تم اُٹھو اور بیٹھ کر ان کلمات کو دس مرتبہ پڑھو تو یہ پچھتر ہو جائیں گے بعد والی تین رکعت بھی اسی طرح ادا کرو تو یہ مضموعی طور پر ایک ہزار دو سو ہو جائیں گے۔ نبی اکرمﷺ اس بات کو مستحب سمجھتے تھے کہ ورہ فاتحہ کے بعد جو سورت تلاوت کی جائے اُس میں بیس آیات یا اس سے زیادہ کی تلاوت کی جائے ۔ تم یہ نماز ادا کر لو یا دن میں ادا کر لو یا ہفتہ بعد ادا کر لو یا مہینہ میں ایک مرتبہ ادا کر لو یا سال میں ایک مرتبہ ادا کر لو یا زندگی میں ایک مرتبہ ادا کر لو اگر تمہارے گناہ آسمان کے ستاروں کی تعداد جتنے ہوں یا بارش کے قطروں کی تعداد جتمے ہوں یا ریت کے ذروں کی تعداد جتنے ہوں یا زمانہ کے دنوں کی تعداد جتنے ہوں تو اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کر دے گا ۔
جَعْفَر بن أبي طَالب ← إسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 5004
