مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ فِي الصَّلَاةِ · حديث 2574
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: «الِاسْتِعَاذَةُ وَاجِبَةٌ لِكُلِّ قِرَاءَةٍ فِي الصَّلَاةِ أَوْ غَيْرِهَا»، قُلْتُ لَهُ: مِنْ أَجْلِ {إِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ}؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: فَأَقُولُ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ أَوْ يَدْخُلُوا بَيْتِيَ الَّذِي يُؤْوِينِي قَالَ: وَقَبْلَ مَا أَبْلُغُ مِنْ هَذَا الْقَوْلِ كَثِيرًا مَا أَدَعُ أَكْثَرَهُ قَالَ: «يُجْزِئُ عَنْكَ لَا تَزِيدُ عَلَى أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ»
عطا ء بیان کرتے ہیں: ہر قسم کی قرات کے لیے شروع میں اعوذ باللہ پڑھنا واجب ہے خواہ وہ قرات نماز میں ہو یا نماز کے علاوہ ہو ۔ ابن جریح کہتے ہیں: میں نے اُن سے دریافت کیا : کیا اُس کی وجہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : جب تم قرآن کی تلاوت کرنے لگو تو پہلے مردود شیطان سے اللہ کی پناہ مانگ لو ۔ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! میں نے دریافت کیا: اگر میں یوں پڑھتا ہوں: اللہ تعالیٰ کے نا م سے شروع کرتا ہوں جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے میں سننے والے علم رکھنے والے مہربان رحم کر نے والے اللہ تعالیٰ کی مردود شیطان سے پناہ مانگتا ہوں اور اے میری پرور دگار ! میں اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس موجود ہو یا مین اُس کے گھر میں داخل ہوں جو میری پناہ گا ہ ہو۔ اُنہوں نے جواب دیا: اس دعا کے علاوہ اور بھی بلیغ دعائیں ہیں جو بہت سی ہیں جن کا زیادہ حصہ میں ترک نہیں کرتا ۔ اُنہوں نے کہا: یہ تمہاری طرف سے جائز ہو گا لیکن تم اعوز باللہ من الشیطن الر جیم سے زیادہ نہ پڑھو ۔
عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The chapter on seeking assistance in prayer · Hadith 2574
