مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصِّيَامِ ‹ بَابُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ · حديث 7679
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَاصِمٌ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عِكْرِمَةَ يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: دَعَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُمْ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ؟ فَأَجْمَعُوَا أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقُلْتُ لِعُمَرَ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ، أَوْ إِنِّي لَأَظُنُّ أَيَّ لَيْلَةٍ هِيَ؟»، قَالَ عُمَرُ: وَأَيُّ لَيْلَةٍ هِيَ؟ فَقُلْتُ: " سَابِعَةٌ تَمْضِي، أَوْ سَابِعَةٌ تَبْقَى مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَقَالَ عُمَرُ: وَمِنْ أَيْنَ عَلِمْتَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: «خَلَقَ اللَّهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ، وَسَبْعَ أَرَضِينَ، وَسَبْعَةَ أَيَّامٍ، وَإِنَّ الدَّهْرَ يَدُورُ فِي سَبْعٍ، وَخَلَقَ اللَّهُ الْإِنْسَانَ مِنْ سَبْعٍ، وَيَأْكُلُ مِنْ سَبْعٍ، وَيَسْجُدُ عَلَى سَبْعٍ، وَالطَّوَافُ بِالْبَيْتِ سَبْعٌ، وَرَمِيُ الْجِمَارِ سَبْعٌ، لِأَشْيَاءَ ذَكَرَهَا»، فَقَالَ عُمَرُ: لَقَدْ فَطِنْتَ لِأَمْرٍ مَا فَطِنَّا لَهُ، وَكَانَ قَتَادَةُ يَزِيدُ عَلَى [ص:247] ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: يَأْكُلُ مِنْ سَبْعٍ قَالَ: " هُوَ قَوْلُ اللَّهِ: {أَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا، وَعِنْبًا} الْآيَةُ
عکرمہ بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عباس نے یہ بات بیان کی ہے ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب نے نبی اکرمﷺ کے اصحاب کو بلوایا اور اُن سے شب قدر کے بارے میں دریافت کیا: تو اُن سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ آخری عشرہ میں ہوتی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عمر سے کہا : مجھے یہ پتا ہے مجھے یہ اندازہ ہے کہ وہ کون سی رات ہے ؟ حضرت عمر نے دریافت کیا: وہ کون سی رات ہوتی ہے ؟ میں نے جواب دیا: گزرے ہوئے عشر کی ساتویں رات یا باقی رہ جانے والے عشرہ کی ساتویں رات ۔ حضرت عمر نے دریافت کیا : تمہیں اس بات کا پتا کیسے چلا ؟ تو حضرت عبداللہ بن عمر نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ نے سات آسمان پیدا کیے ہیں سات زمینیں پیدا کی ہیں سات دن پیدا کیے ہیں زمانہ سات میں گھومتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ساتھ چیزوں سے تخلیق کی ہے اور آدمی سات چیزوں سے کھاتا ہے اور سات اعضاء پر سجدہ کرتا ہے بیت اللہ کے طواف میں سات چکر ہوتے ہیں جمرات کو سات کنکریاں ماری جاتی ہیں اُس کے علاوہ اُنہوں نے کچھ اور چیزیں بھی ذکر کیں تو حضرت عمر نے فرمایا: تمہارا بھی وہی اندازہ ہے جو ہمارا اس بارے میں اندازہ تھا ۔
ليلة القدر فأجمعوا ← ابْنُ عَبَّاسٍ: دَعَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ فَسَأَلَهُمْ ← قتادة وعاصم أنهما سمعا عكرمة ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The fasting book › The door of the Night of Decree · Hadith 7679
