مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ اعْتِمَادِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْعَصَا · حديث 5246
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ إِذَا خَطَبَ عَلَى عَصًا؟ قَالَ: نَعَمْ، كَانَ يَعْتَمِدُ عَلَيْهَا اعْتِمَادًا، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَحَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ اتَّخَذَ عَسِيبًا مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ، يُسَكِّتُ بِهِ النَّاسَ، وَيُشِيرُ بِهِ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: «يَا مُحَمَّدُ، لِمَ تَكْسِرُ قُرُونَ رَعِيَّتِكَ؟» فَأَلْقَاهُ، فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ، فَقَالَ مِيكَائِيلُ: إِنَّ رَبَّكَ يُخَيِّرُكَ أَنْ تَكُونَ مَلِكًا نَبِيًّا، أَوْ نَبِيًّا عَبْدًا، فَنَظَرَ إِلَى جِبْرِيلَ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ أَنْ تَوَاضَعْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ نَبِيٌّ عَبْدٌ» فَقَالَ جِبْرِيلُ: فَإِنَّكَ سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ، وَإِنَّكَ أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ، وَأَوَّلُ مَنْ يَشْفَعُ
ابن جریح بیان کرتے ہیں : میں نے عطا ء سے دریافت کیا : نبی اکرمﷺ جب خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو عصا کے ساتھ ٹیک لگاتے تھے ؟ اُنہوں نے جواب دیا : جی ہاں! نبی اکرمﷺ اُس کے ساتھ ٹیک لگاتے تھے ۔ ابن جریح بیان کرتے ہیں عمر بن عطا ء نے مجھے یہ بات بتائی ہے : نبی اکرمﷺ نے کھجور کی ایک شاخ کی چھڑی ہنوائی تھی جس کے ذریعہ اشارہ بھی کیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف یہ وحی کی کہ اے محمد! تم اپنی رعایہ کے سینگوں کو کیوں توڑتے ہو ۔ تو نبی اکرمﷺ نے اُس چھڑی کو رکھ دیا پھر حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت میکائیل نے آپ کی خدمت میں عرض کی : آپ کے پروردگار نے آپ کو یہ اختیار دیا ہے کہ یا تو آپ ایک بادشاہ نبی بن جائیں یا عبد نبی بن جائیں ! نبی اکرمﷺ نے حضرتے جبرائیل کی طرف دیکھا تو اُنہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعہ اشارہ کیا کہ آپ تواضع اختیار کریں تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : میں عبد نبی بننا چاہوں گا ۔ حضرت جبرائیل نے عرض کی : آپ اولاد آدم کے سردار ہیں اور آپ وہ پہلے شخص ہوں گے جن کے لیے زمین کو شق کیا جائے گا اور وہ پہلے شخص ہوں گے جو شفاعت کریں گے ۔
ابْنُ جُرَيْجٍ: وَحَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ ← نَعَمْ. كَانَ يَعْتَمِدُ عَلَيْهَا اعْتِمَادًا ← قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَكَانَ النَّبِيُّ يَقُومُ إِذَا خَطَبَ عَلَى عَصًا؟ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 5246
