مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ شُهُودِ الْجَمَاعَةِ · حديث 1979
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوَبَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ فَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى، وَلَعَمْرِي مَا إِخَالُ أَحَدَكُمْ إِلَّا، وَقَدِ اتَّخَذَ مَسْجِدًا فِي بَيْتِهِ، وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ، كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَضَلَلْتُمْ، وَلَقَدْ رَأَيْتَنَا، وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومٌ نِفَاقُهُ أَوْ مَعْرُوفٌ نِفَاقُهُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ الرَّجُلَ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ، حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ فَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُوَرَ فَيَخْطُو خُطْوَةً يَعْمِدُ بِهَا إِلَى مَسْجِدٍ للَّهِ تَعَالَى إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً وَرَفَعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً، حَتَّى إِنْ كُنَا لَنُقَارِبُ فِي الْخُطَا» [ص:517]
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں: جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ کل وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مسلمان ہونے کے طور پر حاضر ہو تو اُسے ان پانچ فرض نمازوں کی حفاظت کرنی چاہیے جب ان کے لیے بلایا جائے کیونکہ یہ ہدایت کے طریقے ہیں اور اللہ تعالی نے تمہارے نبی کے لیے ہدایت کے طریقے مشروع کیے ہیں مجھے اپنی زندگی کی قسم ! میرا نہیں خیال کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے گھر میں نماز کے لیے جگہ مخصوص کر لیتا ہے اگر تم اپنے گھروں میں نماز ادا کر و جس طرح وہ شخص کرتا ہے جو نماز جماعت میں شریک نہیں ہوتا اور گھر میں بیٹھا ہوتا ہے تو تم اپنے نبی کی سنت کو ترک کر دو گے اور اگر تم اپنے نبی کی سنت کو ترک کر دو گے تو تم گمراہ ہو جاؤ گے مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے وہ یہ سمجھتے تھے کہ باجماعت نماز میں شریک نہ ہونے والا شخص ایسا منافق ہو گا جس کا نفاق طے شدہ ہو یا جس کا نفاق معروف ہو اور میں نے دیکھا کہ بعض اوقات کسی شخص کو دو آدمیوں کے کے درمیان لایا جاتا تھا اور اُسے صف میں کھڑا کر دیا جاتا تھا جو شخص اچھی طرح وضو کرے اور پھر وہ پیدل چلتا ہوا اللہ تعالیٰ کی مسجد کی طرف جائے تو اللہ تعالیٰ اُس کے ہر ایک قدم کے عوض میں اُس کے لیے ایک نیکی توٹ کرے گا اور اُس کے ایک قدم کے عوض میں اُس کا ایک درجہ بلند کرے گا ایک قدم کےعوض میں اُس کا ایک گناہ معاف کرے گا یہاں تک کہ ہم لوگ چھوٹے قدم اُٹھایا کرتے تھے ۔
أَبِي الْأَحْوَصِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 1979
