مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ · حديث 864
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: شَأْنُ الْمَجْدُورِ، هَلْ لَهُ رُخْصَةٌ فِي أَنْ يَتَوَضَّأَ؟ وَتَلَوْتُ عَلَيْهِ: {وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ} [النساء: 43]، وَهُوَ سَاكِتٌ كَذَلِكَ حَتَّى جِئْتُ، {فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً} [النساء: 43] قَالَ: «ذَلِكَ إِذَا لَمْ يَجِدُوا مَاءً، فَإِنْ وَجَدُوا مَاءً فَلْيَتَطَهَّرُوا» قَالَ: «وَإِنِ احْتَلَمَ الْمَجْدُورُ وَجَبَ عَلَيْهِ الْغُسْلُ، وَاللَّهِ لَقَدِ احْتَلَمْتُ مَرَّةً - عَطَاءٌ الْقَائِلُ - وَأَنَا مَجْدُورٌ فَاغْتَسَلْتُ، هِيَ لَهُمْ كُلِّهِمْ إِذَا لَمْ يَجِدُوا الْمَاءَ - يَعْنِي الْآيَةَ -»
ابن جریح بیان کرتے ہیں : میں نے عطا ء سے دریافت کیا :چیچک کے شکار شخص کا کیا معاملہ ہے کیا اُسے یہ اجازت ہے کہ وہ وضو نہ کرے میں نے اُن کے سامنے یہ تلاوت کی : اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو ۔ لیکن عطا ء خاموش رہے یہاں تک کہ میں نےآیت کی تلاوت کی : اور اگر تم پانی نہ پاؤ۔ تو عطا ء نے کہا : یہ حکم اُس صورت میں ہے جب اُن لوگوں کو پانی نہیں ملتا جب اُنہیں پانی مل جاتا ہے تو وہ طہارت حاصل کریں گے ۔ اُنہوں نے یہ بھی فرمایا اگر چیچک کے شخص کو احتلام ہو جائے تو اُس پرغسل واجب ہوگا ۔ پھر عطاء نے یہ بات بیان کی : اللہ کی قسم ! ایک مرتبہ خود مجھے احتلام ہوگیا میں اُس وقت چیچک کا شیکار تھا تو میں نے غسل کیا تو یہ حکم اُن لوگوں کے لیے اُس صورت میں ہے جب اُن لوگوں کو پانی نہیں ملتا ۔ عطاء کی مراد آیت کا حکم تھا ۔
ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › Door if water cannot be found · Hadith 864
