مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ، وَوَضْعِهِ، أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ · حديث 1802
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَيُؤَذِّنُ الْمُؤَذِّنُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ؟ قَالَ: «نَعَمْ، فَإِنْ كَانَ فِي قَرْيَةٍ فَإِنَّهُ يَلْتَفِتُ عَنْ يَمِينِهِ وَيَسَارِهِ وَوَرَاءَهُ، فَيَدْعُو النَّاسَ بَالنِّدَاءِ، فَإِنْ كَانَ فِي سَفَرٍ لَيْسَ مَعَهُ بَشَرٌ كَثِيرٌ مَعَ خَلِيفَةٍ أَوْ لَمْ يَكُنْ فِي النَّاسِ مَنْ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْأَذَانِ، فَلْيَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فِي نِدَائِهِ أَجْمَعَ»
ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا : کیا مؤذون قبلہ کی طرف رُخ کر کے اذان دے گا ؟ اُنہوںنے جواب دیا : جی ہاں! اگر وہ آبادی کی طرف ہو گا تو وہ دائیں طرف بائیں طرف اور پیچھے کی طرف منہ پھیرے گا اور لوگوں کو اپنی پکار کے ذریعہ دعوت دے گا ۔ وہ یہ فرماتے ہیں : اگر وہ سفر میں ہوگا اور اُس کے ساتھ بہت سے لوگ نہ ہوں جیسے خلیفہ کے ساتھ نہ ہوں یا اتنے زیادہ نہ ہوں جنہیں اذان کے ذریعے دعوت دینے کی ضرورت پیش آئے تو پھر وہ مکمل طور پر قبلہ کی طعف ہی رُخ کرے گا ۔
«نَعَمْ، فَإِنْ كَانَ فِي قَرْيَةٍ فَإِنَّهُ يَلْتَفِتُ ← قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَيُؤَذِّنُ الْمُؤَذِّنُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ؟ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door to receiving the kiss, placing it, two fingers in his ears · Hadith 1802
