مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ ‹ بَابُ خُرُوجِ مَنْ مَضَى وَالْخُطْبَةَ وَفِي يَدِهِ عَصًا · حديث 5650
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: مَتَى كَانَ مَنْ مَضَى يَخْرُجُ أَحَدُهُمْ مِنْ بَيْتِهِ يَوْمَ الْفِطْرِ لِلصَّلَاةِ؟ فَقَالَ: «كَانُوا يَخْرُجُونَ حَتَّى يَمْتَدَّ الضُّحَى فَيُصَلُّونَ، ثُمَّ يَخْطُبُونَ قَلِيلًا سُوَيْعَةً»، يُقَلِّلُ خُطْبَتَهُمْ؟ قَالَ: «لَا يَحْبِسُونَ النَّاسَ شَيْئًا» قَالَ: ثُمَّ يَنْزِلُونَ فَيَخْرُجُ النَّاسُ؟ قَالَ: «مَا جَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِنْبَرٍ حَتَّى مَاتَ، مَا كَانَ يَخْطُبُ إِلَّا قَائِمًا»، فَكَيْفَ يُخْشَى أَنْ يَحْبِسُوا النَّاسَ؟ وَإِنَّمَا كَانُوا يَخْطُبُونَ قِيَامًا لَا يَجْلِسُونَ إِنَّمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ [ص:286] وَعُثْمَانُ يَرْتَقِي أَحَدُهُمْ عَلَى الْمِنْبَرِ فَيَقُومُ كَمَا هُوَ قَائِمًا لَا يَجْلِسُ عَلَى الْمِنْبَرِ حَتَّى يَرْتَقِيَ عَلَيْهِ «، وَلَا يَجْلِسُ عَلَيْهِ بَعْدَمَا يَنْزِلُ؟» وَإِنَّمَا خُطْبَتُهُ جَمِيعًا وَهُوَ قَائِمٌ، إِنَّمَا كَانُوا يَتَشَهَّدُونَ مَرَّةً وَاحِدَةً الْأُولَى " قَالَ: «لَمْ يَكُنْ مِنْبَرٌ إِلَّا مِنْبَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى جَاءَ مُعَاوِيَةُ حِينَ حَجَّ بِالْمِنْبَرِ فَتَرَكَهُ» قَالَ: «فَلَا يَزَالُونَ يَخْطُبُونَ عَلَى الْمَنَابِرِ بَعْدُ»
ابن جریح بیان کرتے ہیں؛ میں نے عطا ء سے دریافت یا جس شخص نے نماز عید کے لیے عید الفطر کے دن جانا ہوتا تھا وہ کس وقت نکلتا تھا؟ تو اُنہوں نے جواب دیا: پہلے لوگ د چڑھنے کے بعد نکلا کرتے تھے اور نماز ادا کرتے تھے پھر وہ خطبہ سنتے تھے جو مختصر ہوتا تھا ۔ وہ خطبہ مختصر دیا کرتے تھے ۔ راوی کہتے ہیں: وہ لوگوں کو روک کر نہیں رکھتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر وہ لوگ منبر سے نیچے اُترتے تھے تو لوگ چلے جاتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ اپنے وصال تک کبھی پر تشریف فرما نہیں ہوئے آپ ہمیشہ کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے تو اس بات کا اندیشہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ لوگوں کو روک لیں گے پہلے لوگ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے وہ بیٹھتے نہیں تھے نبی اکرمﷺ نے حضرت ابو بکر حضرت عمر اور حضرت عثمان ان میںس ے کوئی ایک منبر پر چڑھتا تھا اور کھڑے ہو کر خطبہ دیتا تھا منبر پر بیٹھتا نہیں تھا صرف اُس پر چڑھتا تھا اور اُس سے اُترنے کے بعد بھی اُس پر نہیں بیٹھتا تھا ان کا پورا خطبہ کھڑے کر کر ہوتا تھا یہ لوگ ایک مرتبہ آغاز میں شہادت کے کلمات پڑھا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: منبر صرف نبی اکرمﷺ کا منبر ہوتا تھا یہاں تک کہ جب حضرت معاویہ آئے یعنی جب حج کے موقع پر آئے تو اُنہو ں نے اُس منبر کو ترک کر دیا اُس کے بعد حکمرانوں نے ہمیشہ منبر پر بیٹھ کر خطبہ دیا۔
ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The two Eid prayers book › The door of the exit of the one who passed by and the engagement, with a stick in his hand · Hadith 5650
