مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ الرَّجُلِ يَمُرُّ عَلَى الْمَيِّتِ فَلَا يَدْفِنُهُ · حديث 6660
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: ذُكِرَ لِعُمَرَ امْرَأَةٌ تُوُفِّيَتْ بِالْبَيْدَاءِ فَجَعَلَ النَّاسُ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَلَا يَدْفِنُونَهَا حَتَّى مَرَّ عَلَيْهَا كُلَيْبٌ فَدَفَنَهَا، فَقَالَ عُمَرُ: إِنِّي لَأَرْجُو لِكُلَيْبٍ بِهَا خَيْرًا قَالَ: فَسَأَلَ عُمَرُ عَنْهَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: لَمْ أَرَهَا، فَقَالَ: «لَوْ رَأَيْتَهَا وَلَمْ تَدْفِنْهَا لَجَعَلْتُكَ نَكَالًا». قَالَ مَعْمَرٌ: وَسَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ: إِنَّ أَبَا لُؤْلُؤَةَ طَعَنَ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا فَمَاتَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ مِنْهُمْ عُمَرُ وَكُلَيْبٌ، وَعَاشَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ ثُمَّ نَحَرَ نَفْسَهُ بِخِنْجَرٍ "
نافع بیان کرتے ہیں: حضرت عمر کے سامنے ایک خاتون کا ذکر کیا گیا جو کھلے میدان میں انتقال کر گئی لوگ اُس کی میت کے پاس سے گزرے لیکن اُنہوں نے اُس عورت کو دفن نہیں کیا یہاں تک کہ کلیب نامی راوی صاحب اُس میت کے پاس سے گزرے تو اُنہوں نے اُس کو دفن کیا۔ حضرت عمر نے فرمایا: مجھے کلیب کے بارے میں اس کام کی وجہ سے بھلائی کی اُمید ہے ۔ راوی کہتے ہیں: حضر ت عمر نے حضرت عبداللہ بن عمر سے اُس خاتون کے بارے میں دریافت کیا تو حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا: میں نے تو اُس عورت کو نہیں دیکھا ۔ حضرت عمر نے فرمایا: اگر تم نے اُسے دیکھا ہوتا اور پھر بھی دفن نہ کیا ہوتا تو میں تمہیں سزا دیتا۔ زہری بیان کرتےہیں: ابو لولو نے بارہ افراد کو زخمی کیا تھا جن میں سے چھ حضرات کا انتقال ہو گیا تھا جن میں سے ایک حضرت عمر اور کلیب نامی وہ صاحب بھی تھے جبکہ اُن میں سے چھ حضرات زندہ بچ گئے تھے اُس کے بعد اُس نے خنجر کے ذریعہ خود کشی کر لی تھی۔
نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › The man’s gate passes through the dead, so he does not bury him · Hadith 6660
