مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ الزَّكَاةِ مِنَ الْعُرُوضِ · حديث 7093
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ سُفْيَانَ: «فِي الصَّيَّادِ يَحْبِسُ صَيْدَهُ سَنَةً أَوِ الطَّيْرَ يَحْبِسُهَا سَنَةً لَيْسَ فِيهَا زَكَاةٌ حَتَّى يَحْبِسَهَا فِي شَيْءٍ يُدِيرُهُ لِتِجَارَةٍ» قَالَ سُفْيَانُ: «وَكُلُّ إِنْسَانٍ وَرِثَ شَيْئًا فَلَا زَكَاةَ عَلَيْهِ حَتَّى يَصْرِفَهُ إِلَا رَجُلٌ وَرِثَ بَقَرًا، أَوْ غَنَمًا، أَوْ إِبِلًا، أَوْ ذَهَبًا، أَوْ فِضَّةً، أَوْ زَرْعًا»
سفیان فرماتے ہیں: جو شکاری اپنے شکار کو ایک سال تک یا پرندے کو ایک سال تک روکے رکھتا ہے تو اس میں زکوٰۃ اُس وقت تک لازم نہیں ہو گی جب تک وہ اُسے کسی ایسے صورت حال میں روکے نہیں رکھتا جس کے ذریعہ اُس کا ارادہ تجارت کا ہو ۔ سفیان یہ فرماتے ہیں: جو شخص کسی چیز کا وارث بنے تو اُس پر زکوٰۃ اُس وقت تک لازم نہیں ہو گی جب تک وہ اُسے پھیر نہیں دیتا اس کا حکم مختلف ہے جو شخص گائے کا یا بکری کا یا اونٹ کا یا سونے کا یا چاندی کا یا کھیت کا وارث بنتا ہے ۔
عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 7093
