مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا · حديث 2237
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: لَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ أَسْرَى لَيْلَةً حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ عَدَلَ عَنِ الطَّرِيقِ، ثُمَّ عَرَّسَ وَقَالَ: «مَنْ يَحْفَظُ عَلَيْنَا الصَّلَاةَ؟» فَقَالَ بِلَالٌ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَجَلَسَ فَحَفِظَ عَلَيْهِمْ، فَنَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَبَيْنَا بِلَالٌ جَالِسٌ غَلَبَتْهُ عَيْنُهُ، فَمَا أَيْقَظَهُمْ إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فَفَزِعُوا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنِمْتَ يَا بِلَالُ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَ نَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِأَنْفُسِكُمْ قَالَ: «فَبَادَرُوا رَوَاحِلَهُمْ، وَتَنَحَّوْا عَنِ الْمَكَانِ الَّذِي أَصَابَتْهُمْ فِيهِ الْغَفْلَةُ»، ثُمَّ صَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي} [طه: 14] ". قَالَ [ص:588]: قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ: أَبَلَغَكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَهَا " لِذِكْرِي؟ قَالَ: «نَعَمْ». قَالَ مَعْمَرٌ: كَانَ الْحَسَنُ يُحَدِّثُ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ وَيَذْكُرُ أَنَّهُمْ رَكَعُوا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرمﷺ غزوہ خیبر سے تشریف لا رہے تھے تو آپ رات بھر سفر کرتے رہے یہاں تک کہ رات کا آخری وقت ہوا تو آپ راستے سے ہٹ گئے اور آپ نے رات کے وقت پڑاؤ کیا ۔ آپ نے دریافت کیا : کون ہماری نماز کے لیے حفاظت کرے گا ؟ تو حضرت بلال نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میں کروں گا ! پھرحضرت بلال بیٹھ گئے اور اُن لوگوں کے لیے دھیان رکھنے لگے نبی اکرمﷺ اور آپ کے اصحاب سو گئے حضرت بلال بیٹھے ہوئے ہی سو گئے ان سب لوگوں کو سورج کی تپش نے بیدار کیا لوگ گھبرا گئے نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے بلال! کیا تم سو گئے تھے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ! مجھےبھی اسی ذات نے پکڑ لیا تھا جس نے آپکو پکڑا ہوا تھا ۔ راوی بیا ن کرتے ہیں: تو اُن لوگوں نے تیزی سے اپنے پالان باندھے اور اُس جگہ سے ہٹ گئے جہاں اُن پر غفلت طاری ہوئی تھی پھر نبی اکرمﷺ نے اُن لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی جب آپ فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو جب وہ اُسے یاد آئے اُس وقت اُسے ادا کر لے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میری یاد کے لیے نماز کو قائم کرو ۔راوی بیان کرتے ہیں: میں نے زہری سے دریافت کیا : کیا آپ تک یہ روایت پہنچی ہے نبی اکرمﷺ نے اس لفظ کو لذکری کے طور پر تلاوت کیا ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! معمر بیان کرتے ہیں: حسن بصری بھی اس حدیث کو اس کی مانند روایت کرتے تھے البتہ وہ یہ ذکر کرتے تھے کہ ان حضرات نے پہلے دو رکعات سنت ادا کی تھی اور پھر نبی اکرمﷺ نے اُنہین صبح کی نماز پڑھائی تھی ۔
ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter on the one who forgets a prayer or sleeps from it · Hadith 2237
