مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي جِلْدِ مَا لَمْ يُدْبَغْ · حديث 181
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ: تَبَرَّزَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي أَجْيَادَ، ثُمَّ رَجَعَ فَاسْتَوْهَبَ وَضُوءًا فَلَمْ يَهَبُوا لَهُ قَالَتْ أُمُّ مَهْزُولٍ: وَهِيَ مِنَ الْبَغَايَا التِّسْعِ اللَّوَاتِي كُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، هَذَا مَاءٌ وَلَكِنَّهُ فِي عُلْبَةٍ، وَالْعُلْبَةُ الَّتِي لَمْ تُدْبَغْ، فَقَالَ عُمَرُ لِخَالِدِ بْنِ طُحَيْلٍ: «هِيَ؟» قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: «هَلُمَّ فَإِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْمَاءَ طَهُورًا»
عبداللہ بن ابو ملیکہ بیان کرتے ہیں : ایک دفہ حضرت عمر بن خطاب ایک مہم کے دوران قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے جب وہ واپس آئے تو اُنہوں نے وضو کے لیے پانی مانگا لوگوں نے اُنہیں پانی پیش نہیں کیا اسی دوران اُم مہزول نامی خاتون نے یہ کہا یہ ایک ایسی خاتون تھی جو زمانہ جاہلیت کی نو سر کش عورتوں میں سے ایک تھی اُس خاتون نے کہا : اے امیرولمومنین ! یہ پانی ہے لیکن یہ علبہ میں ہے علبہ اُس چمڑے کو کہا جاتا ہے جس کی دباغت نہ ہوئی ہو - تو حضرت عمر نے خالد بن طحیل سے دریافت کیا : کیا یہ وہی عورت ہے ؟اُنہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا : لے آؤ! کیونکہ اللہ تعالیٰ پانی کو طہارت کے حصول کا ذریعہ بنایا ہے ۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › Chapter of what came in the skin of that which is not tanned · Hadith 181
