مصنف عبدالرزاق · كتاب فضائل القرآن ‹ بَابُ تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ وَفَضْلِهِ · حديث 5991
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ شَافِعٌ لِأَصْحَابِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَتَعَلَّمُوا الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ، تَعَلَّمُوا الزَّهْرَاوَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ - أَوْ غَيَايَتَانِ - أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافٍ تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا، وَتَعَلَّمُوا الْبَقَرَةَ فَإِنَّ تَعَلُّمَهَا بَرَكَةٌ، وَتَرْكُهَا حَسْرَةٌ: وَلَا يُطِيقُهَا الْبَطَلَةُ - يَعْنِي الْبَطَلَةَ السَّحَرَةَ - "
حضرت ابو امامہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : قرآن کا علم حاصل کرو کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے عالم کے لیے شفاعت کرنے والا ہے تم سورہ بقرہ اور سوورہ آل عمران کا علم حاصل کرو اور تم دوروشن سورتوں کا علم حاصل کرو کیونکہ جب یہ قیامت کے دن آئیں گی تو یہ دو بادلوں کی مانند ہوں گی یا یہ دونوں پرندوں کی دو صفوں کی مانند ہوں گی اور یہ اپنے عالم شخص کے حوالے سے بحث کریں گی تم لوگ سورہ بقرہ کا علم حاصل کرو کیونکہ اس کو دیکھنا برکت ہے اور اسے ترک کرا حسرت ہے اور باطل لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ یہاں باطل لوگوں سے مراد جادوگر ہیں۔
اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Virtues of the Qur’an › Chapter on teaching the Qur’an and its virtue · Hadith 5991
