مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ الْعَنْبَرِ · حديث 6974
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: كَتَبَ إِلِيَّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ أَنْ قَدْ ذَكَرَ لِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ مِنْ أَهْلِي أَنْ قَدْ تَذَاكَرَ هُوَ، وَعُرْوَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّعْدِيُّ بِالشَّامِ الْعَنْبَرَ، فَزَعَمَ عُرْوَةُ أَنَّهُ قَدْ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُهُ عَنْ صَدَقَةِ الْعَنْبَرِ، فَزَعَمَ عُرْوَةُ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَيْهُ: «اكْتُبْ إِلِيَّ كَيْفَ كَانَ أَوَائِلُ النَّاسِ يَأْخُذُونَهُ؟ أَمْ كَيْفَ كَانَ يُؤْخَذُ مِنْهُمْ؟» ثُمَّ اكْتُبْ إِلِيَّ قَالَ: إِنَّهُ قَدْ ثَبَتَ عِنْدِي أَنَّهُ كَانَ يَنْزِلُ بِمَنْزِلَةِ الْغَنِيمَةِ، فَيُؤْخَذُ مِنْهُ الْخُمْسُ، فَزَعَمَ عُرْوَةُ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَيْهِ «أَنْ خُذِ الْخُمْسَ، وَادْفَعْ مَا فَضَلَ بَعْدَ الْخُمْسِ إِلَى مَنْ وَجَدَهُ» عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
ابن جریح بیان کرتے ہیں: ابراہیم بن میسرہ نے مجھے خط میں لکھا کہ میرے خاندان میں سے ایسے شخص کہ جن پر میں تہمت عائد نہیں کرتا اُنہوں نے مجھے یہ بات بتائی ہے : ایک مرتبہ وہ اور عروہ بن محمد ساعدی شام میں عنبر کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے تو عروہ نے یہ بتایا : اُنہو ں نے عمر بن عبدالعزیز کو خط میں یہ لکھا جس میں اُن سے عبر کی زکوٰۃ کے بارے میں دریافت کیا تو عروہ کا یہ کہنا تھا حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اُنہیں خط میں لکھا کہ تم مجھے خط میں لکھو کہ پہلے لوگ اسے کس طرح حاصل کیا کرتے تھے ؟ یا پہلے یہ لوگوں سے کس طرح وصول کیا جاتا تھا ؟ پھر تم مجھے خط میں یہ لکھو تو اُنہوں نے یہ بتایا کہ میرے سامنے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اسے مال غنیمت کے طور پر سمجھا جاتا ہے اور اس میں سے خمس دیا جاتا ہے ۔ عروہ نے یہ بتایا کہ اُنہوں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو خط میں یہ لکھا کہ آپ خمس وصول کیا کریں اور خمس ے بعد جو چیز بچ جائے اُسے اُس شخص کے حوالے کر دیں جو اُسے پالے گا ۔
إِلِيَّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · Zakat Book › The ward door · Hadith 6974
