مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الْإِمَامِ يُؤْتَى فِي مَسْجِدِهِ · حديث 3850
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فِي مَسْجِدٍ بِطَائِفَةِ الْمَدِينَةِ قَالَ: وَلِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ الْمَسْجِدِ أَرْضٌ يَعْمَلُهَا قَالَ: وَإِمَامُ أَهْلِ ذَلِكَ الْمَسْجِدِ مَوْلًى، وَمَسْكَنُ ذَلِكَ الْمَوْلَى وَأَصْحَابِهِ ثَمَّ، فَلَمَّا سَمِعَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ جَاءَ يَشْهَدُ مَعَهُمُ الصَّلَاةَ، فَقَالَ الْمَوْلَى صَاحِبُ الْمَسْجِدِ لِابْنِ عُمَرَ: تَقَدَّمْ فَصَلِّ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تُصَلِّيَ فِي مَسْجِدِكَ»، فَصَلَّى الْمَوْلَى
نافع بیان کرتے ہیں: مدینہ منورہ کسی محلہ کی مسجد میں نماز کھڑی ہوئی حضرت عبداللہ بن عمر اس وقت اُس مسجد کے قریب اپنی سر زمین پر موجود تھے جہاں وہ کام کاج کر رہے تھے اُس مسجد کا امام ایک غلام تھا اُس غلام اور اُس کے ساتھیوں کی رہائش بھی وہیں موجود تھی جب حضرت عبداللہ بن عمر نے اُن لوگوں کی آواز سنی کہ نماز کھڑی ہو گئی ہے تو وہ اُس لوگوں کے ساتھ نماز ادا کرنے کے لیے تشریف لے آئے اُس مسجد کے امام جو ایک غلام تھا حضرت عبداللہ بن عمر سے یہ کہا: آپ آگے بڑھ کر نماز پڑھائیے ! تو حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا: تم اس بات کے زیادہ حقدار ہو کہ اپنی مسجد میں نماز پڑھاؤ ۔ تو اُس غلام نے نماز پڑھائی ۔
نَافِعٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door of the imam is to be performed in his mosque · Hadith 3850
