مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ الْخُطْبَةِ قَائِمًا · حديث 5253
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، سَمَّاهُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ [ص:186] إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ مَنْصُوبٍ فِي الْمَسْجِدِ فَيَخْطُبُ، حَتَّى بَدَا لَهُ أَنْ يَتَّخِذَ الْمِنْبَرَ، فَاسْتَشَارَ ذَوِي الرَّأْيِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَرَأَوْا أَنْ يَتَّخِذَهُ، فَاتَّخَذَ مِنْبَرًا، فَلَمَّا جَاءَتِ الْجُمُعَةُ، أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَمْشِي حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمَّا فَقَدَهُ الْجِذْعُ حَنَّ حَنِينًا أَفْزَعَ النَّاسَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَجْلِسِهِ، حَتَّى جَاءَهُ فَقَامَ إِلَيْهِ فَمَسَحَهُ فَهَدَأَ فَلَمْ يُسْمَعْ مِنْهُ حَنِينٌ بَعْدَ ذَلِكَ. قَالَ مَعْمَرٌ: وَسَمِعْتُ مَنْ يَقُولُ: فَلَوْلَا مَا فَعَلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ جمعہ کے دن کھجور کی ایک ٹہنی کے ساتھ لگ کر کھڑے ہوتے تھے جسے مسجد میں گاڑ ا گیا تھا پھر آپ خطبہ دیتے تھے یہاں تک کہ آپ کو یہ مناسب لگا کہ آپ منبر بنوالیں آپ نے اس بارے میں سمجھدار مسلمانوں سے مشورہ لیا تو اُن لوگوں کا خیال تھا کہ آپ منبر بنوالیں تو آپ نے منبر بنوالیا جب جمعہ کا دن آیا تو نبی اکرمﷺ چلتے ہوئے اُس منبر پر تشریف فرما ہوئے جب کھجور کے تنے نے آپ کو غیر موجود پایا تو وہ رونے لگا جس سے لوگ گھبراگئے تو نبی اکرمﷺ اپنی جگہ سے اُٹھے آپ اُس تنے کے پاس سے تشریف لائے آپ اُس کے پاس آکر کھڑے ہوئے آپ نے اُس ہر ہاتھ پھیرا تو اُسے سکون آیا اور پھر اُس کے رونے کی آواز آنی بند ہو گئی ۔ معمر بیان کرتے ہیں: میں نے ایک صاحب کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ اگر نبی اکرمﷺ اُس کے ساتھ یہ طرز عمل اختیار کرتے تو قیامت کے دن تک روتا رہتا ۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← رَجُلٍ سَمَّاهُ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Friday Book › The door to engagement stands · Hadith 5253
