مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْفَأْرَةِ تَمُوتُ فِي الْجَرِّ · حديث 290
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: فَأْرَةٌ وَقَعَتْ فِي جَرٍّ فَمَاتَتْ فِيهِ، فَقَالَ: «لَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ فَإِنْ تَوَضَّأْتَ وَلَمْ تَعْلَمْ، ثُمَّ صَلَّيْتَ وَلَمْ تَعْلَمْ فَعُدْ مَا كُنْتَ فِي وَقْتٍ» قَالَ: «فَإِنْ فَاتَكَ الْوَقْتُ فَعُدْ أَيْضًا»، قُلْتُ: فَثَوْبِي مَسَّهُ مِنْ مَاءِ تِلْكَ الْجَرَّةِ شَيْءٌ أَغْسِلُهُ أَوْ أَرُشُّهُ؟ قَالَ: «لَا»
ابن جریح بیان کرتے ہیں : میں نے عطا ء سے دریافت کیا: ایک چوہا کسی مٹکے میں گر کے اُس میں مر جاتا ہے تو اُنہوں نے فرمایا: اُس مٹکے کے ذریعہ وضو نہیں کیا جوئے گا اگر تم نے لاعلمی نے اُس کے ذریعہ وضو کر کے نماز ادا کر لی جبکہ تمہیں اُس کا علم نہیں تھا تو اگر نماز کا وقت باقی ہے تو وہ نماز کو وہراؤ گے ۔ اُنہوں نے یہ بھی فرمایا کہ اگر نماز کا وقت گزر چکا ہو تو بھی تم اُس نماز کو دہراؤ گے ۔ میں کہا : اگر اُس مٹکے کا پانی میرے کپڑوں پر لگ جاتا ہے تو کیا میں اُس کپڑے کو دھوؤں گا یا اُس پر پانی چھڑکوں گا ؟ تو اُنہوں نے جواب دیا : جی نہیں !
ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › Mouse pit dies by traction · Hadith 290
