مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ · حديث 1799
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ لِي عَطَاءٌ: «حَقٌّ، وَسُنَّةٌ مَسْنُونَةٌ، أَنْ لَا يُؤَذِّنَ مُؤَذِّنٌ إِلَّا مُتَوَضِّئًا» قَالَ: «هُوَ مِنَ الصَّلَاةِ، وَهُوَ فَاتِحَةُ الصَّلَاةِ فَلَا يُؤَذِّنُ إِلَّا مُتَوَضِّئًا»
ابن جریح بیان کرتے ہیں:عطا ء نے مجھ سے کہا : یہ بات حق اور سنت ہے جو مسنون ہے مؤذن شخص صرف باوضو حالت میں اذان دے گا ۔ وہ یہ فرماتے ہیں: یہ نماز کا حصہ ہے اور یہ نماز کا آغاز ہے اس لیے آدمی کو صرف باوضو حالت میں اذان دینی چاہیے ۔
«هُوَ مِنَ الصَّلَاةِ، وَهُوَ فَاتِحَةُ الصَّلَاةِ فَلَا يُؤَذِّنُ إِلَّا مُتَوَضِّئًا» ← لِي عَطَاءٌ: «حَقٌّ، وَسُنَّةٌ مَسْنُونَةٌ، أَنْ لَا يُؤَذِّنَ مُؤَذِّنٌ إِلَّا مُتَوَضِّئًا» ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 1799
