مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصِّيَامِ ‹ بَابُ مَنْ يُبْطِلُ الصِّيَامَ، وَمَنْ يَأْكُلُ فِي رَمَضَانَ مُتَعَمِّدًا · حديث 7457
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكْتُ قَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» قَالَ: وَاقَعْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ قَالَ: «أَتَجِدُ رَقَبَةً» قَالَ: لَا قَالَ: «أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا» قَالَ: لَا أَجِدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: " فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَرَقٍ، فِيهِ تَمْرٌ - وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ - قَالَ: اذْهَبْ فَتَصَدَّقْ بِهَذَا " قَالَ: أَعَلَى أَفْقَرَ مِنِّي، فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بَالْحَقِّ، مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنِّي، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «اذْهَبْ بِهِ إِلَى أَهْلِكَ»، قَالَ الزُّهْرِيُّ: «وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا رُخْصَةً [ص:195] لِلرَّجُلِ خَاصَّةً، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا فَعَلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ لَمْ يَكُنْ بُدٌّ مِنَ التَّكْفِيرِ»
حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اُس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ہوں ! نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کیا ہوا؟ اُس نے عرض کی: میں نے رمضان کے مہینہ میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے؟ اُس نے عرض کی: جی نہیں! نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا تم مسلسل دو ماہ کے روزہ رکھ سکتے ہو ؟ اُس نے عرض کی : جی نہیں! نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم ساٹھ مسکینوں کو کھانہ کھلا دو ! اُس نے عرض کی : یا رسول اللہ! میں اس کی بھی گنجائش نہیں پاتا ۔ راوی بیا ن کرتے ہیں: پھر نبی اکرمﷺ کے پاس ایک برتن آیا جس میں کھجوریں موجود تھیں عرق ماپنے کا ایک برتن ہے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ النَّبِيَّ فَقَالَ: ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 7457
