مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ الرَّجُلُ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ فَيَسْمَعُ الْإِقَامَةَ فِي غَيْرِهِ · حديث 1971
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَرَأَيْتَ إِنْ سَمِعَ النِّدَاءَ، أَوِ الْإِقَامَةَ وَهُوَ يُصَلِّي الْمَكْتُوَبَةَ أَيَقْطَعُ صَلَاتَهُ وَيَأْتِي الْمَسْجِدَ الْجَامِعَ؟ قَالَ: «إِنْ ظَنَّ أَنَّهُ مُدْرِكٌ مِنَ الْمَكْتُوَبَةِ شَيْئًا فَنَعَمْ»، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ سَمِعْتُ الْإِقَامَةَ أَيَحِقُّ عَلَيَّ أَنْ آتِيَ الصَّلَاةَ كَمَا يَحِقُّ إِذَا سَمِعْتُ النِّدَاءَ؟ قَالَ: «نَعَمْ»
ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو شخص اذان اور اقامت سنتا ہے اور اُس وقت فرض نماز ادا کر رہا ہو تو وہ اپنی نماز کو منقطع کر کے جامع مسجد آئے گا ؟ اُنہوں نے جواب دیا: اگر وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اگر وہ فرض نماز کا کچھ حصہ پا لے گا تو پھر ایسا ہی ہو گا ۔ میں نے کہا: اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے اگر میں اقامت سنتا ہوں تو کیا مجھ پر یہ بات لازم ہو گی کہ میں نما ز کے لیے آؤں جس طرح اذان سن کر مجھ پر یہ بات لازم ہوتی ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا : جی ہاں!
نَعَمْ ← النِّدَاءَ. ← الْإِقَامَةَ أَيَحِقُّ عَلَيَّ أَنْ آتِيَ الصَّلَاةَ كَمَا يَحِقُّ إِذَا ← «إِنْ ظَنَّ أَنَّهُ مُدْرِكٌ مِنَ الْمَكْتُوَبَةِ شَيْئًا فَنَعَمْ»، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ ← النِّدَاءَ، أَوِ الْإِقَامَةَ وَهُوَ يُصَلِّي الْمَكْتُوَبَةَ أَيَقْطَعُ صَلَاتَهُ وَيَأْتِي الْمَسْجِدَ الْجَامِعَ؟ ← قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَرَأَيْتَ إِنْ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The man’s door enters the mosque and hears the stays in others · Hadith 1971
