مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ مَا يُعَدُّ وَكَيْفَ تُؤْخَذُ الصَّدَقَةُ؟ · حديث 6806
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ، عَنِ الْحَسَنِ ابْنِ مُسْلِمِ بْنِ يَنَاقٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، بَعَثَ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيَّ سَاعِيًا فَرَآهُ بَعْدَ أَيَّامٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ لَهُ: «أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ كَالْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟» قَالَ: وَكَيْفَ لِي بِذَلِكَ، وَهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّا نَظْلِمَهُمْ؟ قَالَ: " يَقُولُونَ: مَاذَا؟ " قَالَ: يَقُولُونَ: أَتُحْسَبُ عَلَيْنَا السَّخْلَةُ؟ فَقَالَ عُمَرُ: " احْسِبْهَا، وَلَوْ جَاءَ بِهَا الرَّاعِي يَحْمِلُهَا عَلَى كَفِّهِ، وَقُلْ لَهُمْ [ص:11]: إِنَّا نَدَعُ الْأَكُولَةَ، وَالرُّبَّى، وَالْمَاخِضَ، وَالْفَحْلَ " قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمٍ نَحْوًا مِنْ هَذَا عَنْ عُمَرَ إِلَا أَنَّهُ قَالَ: «خُذْ مَا بَيْنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى الْجَذَعَةِ» قَالَ: «ذَلِكَ عَدْلٌ بَيْنَ رَذْلِهَا، وَخِيَارِهَا، وَالْأَكُولَةُ الشَّاةُ الْعَاقِرُ السَّمِينَةُ، وَالرُّبَّى الَّتِي يُرَبِّي الرَّاعِي»
حسن بن مسلم بن یناق بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب نے سفیان بن عبداللہ ثقفی کو زکوٰۃ کی وصولی کے لیے بھیجا اُنہوں نے کچھ دن بعد اُن صاحب کو مسجد میں دیکھا تو اُن سے دریافت کیا: کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم اللہ کی راہ میں جہاد لینے والے شخص کی مانند ہو جاؤ! سفیان نے جواب دیا: میں ایسا کیسے ہو سکتا ہوں جبکہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم اُُن پر ظلم کرتے ہیں۔ حضرت عمر نے دریافت کیا: لوگ کیا کہتے ہیں:؟ سفیان نے بتایا : لوگ یہ کہتے ہیں کہ کیا تم ہم میں سے نومولود بچے کو بھی شمار کرو گے ؟ حضرت عمر نے فرمایا: تم اُس کو شمار کرو ! خواہ چرواہ اُس بچے کو اپنے ہاتھ پر اُٹھا لیا ہو اور تم اُن سے یہ کہہ دو کہ ہم موٹی بانجھ بچے کی دیکھ بھال کرنے والی حاملہ اور نر جانوروں کو ترک نہیں کریں گے ۔ عبداللہ بن کثیر نے عاصم کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے جس میں یہ الفاط ہیں: تم ثنیہ سے جذعہ تک وصول کرو۔ اُنہوں نے یہ بھی فرمایا: اس بارے میں اُن کے برے اور عمدہ سب برابر شمار ہوں گے ۔اکولہ سے مراد وہ جانور ہے جو بانجھ اور موٹا ہو اور رُبی سے مرا د وہ جانور ہے جسے چرواہا پالتا ہے ۔
الْحَسَنِ ابْنِ مُسْلِمِ بْنِ يَنَاقٍ، ← يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 6806
