مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ {وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ} [الأنعام: 141] · حديث 7263
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: مَا {وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ} [الأنعام: 141] أَيْ: لِكُلِّ شَيْءٍ، {وَلَا تُسْرِفُوا} [الأنعام: 141] فِيمَا تَأْتُوا مِنَ الْحَقِّ يَوْمَ حَصَادِهِ، أَوْفِي كُلِّ شَيْءٍ؟ قَالَ: " بَلَى فِي كُلُّ شَيْءٍ يَنْهَى عَنِ السَّرَفِ، وَفِي كُلِّ شَيْءٍ تَتْرَى، وَأَمَّا قَوْلُهُ: {وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمُ حَصَادِهِ} [الأنعام: 141] فَمِنَ النَّخْلِ، وَالْعِنَبْ، وَالْحَبِّ كُلِّهِ "، قُلْتُ: أَفَرَأَيْتَ مَا كَانَ مِنَ الْفَوَاكِهِ؟ قَالَ: «وَفَيهَا أَيْضًا يُؤْتُونَ»، ثُمَّ قَالَ: «مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُحْصَدُ يُؤْتُونَ مِنْهُ حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ مِنْ نَخْلٍ، أَوْ عِنَبٍ، أَوْ حَبٍّ، أَوْ فَاكِهَةٍ، أَوْ خُضَرٍ، أَوْ قَصَبٍ، أَوْ فِي كُلِّ شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ» قَالَ: «ذَلِكَ تَتْرَى» [ص:144]، قُلْتُ: أَوَاجِبٌ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، ثُمَّ تَلَا {وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ} [الأنعام: 141] "، ثُمَّ قُلْتُ: هَلْ مِنْ شَيْءٍ مَوْصُوفٍ مَعْلُومٍ؟ قَالَ: «لَا»، قُلْتُ: فَإِذَا تَصَدَّقْتَ مِمَّا أَدْفَعُ بِقَلِيلِ الصَّدَقَةِ أَوْ بِكَثِيرهَا، أَيُجْزِئُ عَنِّي؟ قَالَ: «نَعَمْ حَسْبُكَ»، قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ يَحْضُرْنِي مَسَاكِينُ خَبَّأْتُ لَهُمْ؟ قَالَ: «نَعَمْ، أَوْ تُرْسِلُ إِلَى جِيرَانِكَ» قَالَ: فَيُجْزِئُ عَنِّي إِذَا أَعْطَيْتُ جَارِي؟ قَالَ: «نَعَمْ، إِذَا كَانَ ذَا حَاجَةٍ» قَالَ: قُلْتُ: كَانَ لِي حَبٌّ شَتَّى مِنْ دَخَنٍ، وَسُلْتٍ، وَتَمْرٍ، وَشَعِيرٍ، وَمِنْ حَبٍّ شَتَّى فَحَصَيتُ ذَلِكَ جَمِيعًا ثَمَرَةً، أُطْعِمُ مِنْ كُلِّ بَابٍ مِنَ الْحَبِّ أَمْ حَسْبِي أَنْ أُطْعِمَ مِنْ كُلِّ وَاحِدٍ قَالَ: «بَلْ أُطْعِمُ مِنْ كُلِّ بَابٍ مِنَ الْحَبِّ» قَالَ: «ذَلِكَ تَتْرَا»، قُلتُ لَهُ: مَا الدَّخَنُ؟ قَالَ: «حَبٌّ يَكُونُ بِالطَّائِفِ، وَالسُّلْتُ مِثْلُ الشَّعِيرِ لَيْسَ لَهُ قِشْرٌ، وَهَوَ السَّاقَةُ»
ابن جریح نے عطا ء سے دریافت کیا: اور اس کی کٹائی کے دن اُس کا حق ادا کرو اس سے مراد کیا ہے ؟ کیا یہ چیز ہر چیز کے لیے ہے ؟ اور تم اسراف نہ کرو تو کیا اس سے مراد یہ ہے کہ اُس کی کٹائی کے دن ج اُسکا حق ہے اُس بارے میں زیادتی نہ کرو ہر چیز کے بارے میں ہے ؟ اُنہوں نے کہا: جی ہاں! ہر چیز میں اسراف کرنے سے منع کیا گیا ہے اور ہر چیز میں ہوتی ہے جہاں تک اللہ تعالیٰ کے فرمان کا تعلق ہے : اور تم اُس کی کٹائی کے دن اُس کا حق ادا کرو ۔ تو اس میں کھجور انگو ر اور ہر قسم کے ناج شامل ہو گا ۔ میں نے دریافت کیا: اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے پھلوں کا کیا حکم ہو گا ؟ اُنہوں نے فرمایا: اس میں بھی یہ لازم ہو گا اور ادائیگی کی جائے گی ۔ پھر اُنہوں نے بتایا کہ ہر وہ چیز جس کی ادائیگی کی جاتی ہو اُس کی کٹائی کے دن اُس کا حق ادا کیا جائے گا جس کا تعلق کھجوروں انگوروں اناج سبزیوں سے ہے اور ہر قسم کی چیز ہے ۔ اُنہوں نے کہا: یہ سب سبزیاں ہیں ۔ میں نے دریافت کیا: کیا یہ بات لوگوں پر لازم ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا : جی ہاں! میں نے کہا: جب تھوڑا یا زیادہ جتنا بھی صدقہ لازم ہوا ہو اُسے ادا کر دوں تو کیا یہ میرے لیے کافی ہو گا ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! یہ تمہارے لیے کافی ہو گا ! میں نے دریافت کیا: اگر میرے پاس غریب لوگ موجود نہ ہوں تو کیا میں اُن کے لیے سنبھال کر رکھ لوں گا ؟ اُنہوں نے جواب دیا : جی ہاں! یا پھر تم اسے اپنے پڑوسیوں کو بھیجوا دو گے ۔ میں نے کہا: میں نے کہا: اگر میں پڑوسیوں کو دے دیتا ہوں تو کیا یہ میرے لیے جائز ہو گا ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! جبکہ وہ پڑوسی ضرورت مند بھی ہوں ۔ میں نے کہا: میرے پاس مختلف قسم کا اناج ہوتا ہے جیسے دخن ہے جو ہے کھجور ہے جو ہے اور مختلف قسم کے اناج ہیں میں اُن سب کا شمار کر لیتا ہوں تو کیا میں ہر قسم کے اناج کے حوالے سے علیحدہ ادائیگی کروں گا یا اُن سب کی طرف سے اجتماعی ادائیگی کرنا میری طرف سے کافی ہو گا ؟ اُنہوں نے فرمایا: نہیں! بلکہ تم ہر قسم کے اناج سے ادائیگی کرو گے ۔ اُنہوں نے کہا: یہ سب الگ الگ ہیں۔ میں نے اُن سے دریافت کیا : یہ دخن کیا ہوتا ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: یہ ایک اناج ہے جو طائف میں پایا جاتا ہے اور سلت بھی جو کی مانند ہوتا ہے لیکن اس پر چھلکا نہیں ہوتا ئیہ ساقہ ہوتا ہے ۔
ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 7263
