مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ الرَّجُلِ يُصِيبُ جَنَابَةً وَلَا يَجِدُ مَاءً إِلَّا الثَّلْجَ · حديث 927
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا احْتَلَمَ فِي أَرْضِ ثَلْجٍ فِي الشَّتَاءِ يَرَى أَنَّهُ إنِ اغْتَسَلَ مَاتَ وَلَا يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يُجَهِّزَ لَهُ مَا يَغْتَسِلُ بِهِ أَيَغْتَسِلُ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَإِنْ مَاتَ»، قَالَ اللَّهُ: {وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا} [المائدة: 6] وَمَا جَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْ عُذْرٍ
ابن جریح بیان کرتے ہیں : میں نے عطا ء سے دریافت کیا : اگر کسی شخص کو کسی سردی والے موسم میں کسی برف والی سر زمین پر احتلام ہو جائے اور اُسے یوں محسوس ہو کہ اگر اُس نے غسل کیا تو وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گا اور اُس شخص کی یہ حالت ہو کہ اُس کے پاس یہ چیزیں بھی موجود نہ ہوں جو غسل کے لیے ضروری ہوتی ہیں یعنی پانی گرم کرنے کا امکان بھی نہ ہو تو کیا وہ غسل کرے گا ؟ عطا ء نے جواب دیا : جی ہاں! اگرچہ وہ غسل کرنے کی وجہ سے مر جائے کیونکہ اللہ تعالی ٰ نے ارشاد فرمایا : اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو اچگی طرح سے پاکیزگی حاصل کرو ۔اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کے لیے کوئی عذر مقرر نہیں کیا ۔
قُلْتُ لِعَطَاءٍ: لَوْ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 927
