مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ ‹ بَابُ الْأَكْلِ قَبْلَ الصَّلَاةِ · حديث 5734
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ قَالَ [ص:306]: إِنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ فَلْيَفْعَلْ قَالَ: فَلَمْ أَدَعْ أَنْ آكُلَ قَبْلَ أَنْ أَغْدُوَ مُنْذُ سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَآكُلُ مِنْ طَرَفِ الصَّرِيفَةِ، قُلْنَا لَهُ: مَا الصَّرِيفَةُ؟ قَالَ: خُبْزُ الرِّقَاقِ الْأَكْلَةُ، أَوْ أَشْرَبُ مِنَ اللَّبَنِ أَوِ النَّبِيذِ أَوِ الْمَاءِ، قُلْتُ: فَعَلَامَ تُؤَوِّلُ هَذَا؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ قَالَ: أَظُنُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَانُوا لَا يَخْرُجُونَ حَتَّى يَمْتَدَّ الضُّحَى، فَيَقُولُونَ نَطْعَمُ لِأَنْ لَا نَعْجَلَ عَنِ الصَّلَاةِ» قَالَ: وَرُبَّمَا غَدَوْتُ وَلَمْ أَذُقْ إِلَّا الْمَاءَ، ابْنُ عَبَّاسٍ الْقَائِلُ
عطا ء بیان کرتے ہیں: اُنہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : اگر تم سے ہو سکے تو عیدالفطر کی نماز کے لیے جانے سے پہلے کچھ کھا کر جاؤ۔ وہ یہ فرماتے ہیں: جب سے میں نے حضرت عبداللہ بن عباس کی زبانی یہ بات سنی ہے تب سے میں سے کبھی یہ بات ترک نہیں کی کہ نماز عید کے لیے جانے سے پہلے کچھ کھا لوں یہاں تک کہ میں صریفہ کا کنارہ کھا لیتا ہوں ۔ ہم نے ان سے دریافت کیا: صریفہ کیا ہوتا ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: پتلی روٹی ہوتی ہے یا پھر میںد ودھ پی لیتا ہوں ۔ میں نے دریافت کیا: آپ اس سے کیا مراد لیتے ہیں ؟ تو اُنہوں نے بتایا : میں نے اُنہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے اور میرا یہ خیال ہے اُنہوں نے نبی اکرمﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقداس میں صحابہ کرام اُس وقت تک نہیں جاتے تھے جب تک دن چڑھ نہیں جاتا تھا وہ لوگ یہ کہتے تھے کہ ہم کچھ کھا لیتے ہیں تاکہ ہم نماز کے حوالے سے جلدی نہ کریں ۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بعض اوقات میں چال جاتا ہوں اور میں صرف پانی پیا ہوتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں: یہ حضرت عبداللہ بن عباس کا قول ہے۔
عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The two Eid prayers book › Chapter: Eating before prayer · Hadith 5734
