مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ سَتْرِ الرَّجُلِ إِذَا اغْتَسَلَ · حديث 1099
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: بَلَغَنِي، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ يَغْتَسِلُ إِلَى بَعِيرِهِ، قُلْتُ: أَتَرَاهُ يُجْزِئُ عَنِّي أَنْ أَغْتَسِلَ إِلَى بَعِيرٍ، وَأَدَعُ عِنْدِي جَبَلًا أَوْ صَخْرَةً؟ قَالَ: «نَعَمْ، حَسْبُكَ بَعِيرُكَ» قَالَ: قُلْتُ: فَوَسَطَ حُجْرَتِي فَأَغْتَسِلُ إِلَى وَسَطِهَا؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنْ إِلَى بَعْضِ جُدْرَانِهَا» قَالَ: قُلْتُ: وَلَيْسَ عَلَيْهِ سِتْرٌ وَلَا شَيْءٌ أَفَحَسْبِي؟ قَالَ: «نَعَمْ»
ابن جریح بیان کرتے ہیں: مجھ تک حضرت عمر بن خطاب کے حوالے سے یہ روایت پہنچی ہے کہ وہ اونٹ کی اوٹ میں غسل کر لیتے تھے ۔ ابن جریح بیان کرتے ہیں: مین نے کہا : کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ میرے لیے کفایت کر جائے گا کہ میں اونٹ کی اوٹ میں غسل کر لوں اور پہاڑ یا چٹان ترک کر دوں۔ اُنہوں نے جواب دیا : جی ہاں! تمہارے اونٹ تمہارے لیے کافی ہے ۔ میں نے دریافت کیا : میرے ھجرے کے درمیان کیا حکم ہوگا کیا میں اُس کے درمیان غسل کر سکتا ہوں؟اُنہوں نے فرمایا : جی نہیں! بلکہ کسی دیوار کے قریب کرو ! میں نے دریافت کیا : اُس پر کوئی پردہ یا کوئی چیز نہیں ہوتی تو کیا یہ میرے لیے کافی ہوگا ؟ اُنہوں نے جواب دیا : جی ہاں!
بلغني ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 1099
