مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّرْتِيلِ فِي الْقُرْآنِ · حديث 4187
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي رَجُلٌ فِي كَلَامِي وَقِرَاءَتِي عَجَلَةٌ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «لَأَنْ أَقْرَأَ الْبَقَرَةَ فَأُرَتِّلَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَهُذَّ الْقُرْآنَ كُلَّهُ»
ابو جمرہ ضبعی بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس سے کہا : میں ایک ایسا شخص ہوں جس کے بات کرنے اور تلاوت کرنے کے طریقہ میں جلدی پائی جاتی ہے ؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا: میں سورہ بقرہ کی تلاوت ٹھہر ٹھہر کر کروں یہ میرے نزدیک اس سے زیا دہ پسندیدہ ہے کہ میں پورا قرآن تیزی سے پڑھ لوں ۔
قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي رَجُلٌ فِي كَلَامِي وَقِرَاءَتِي عَجَلَةٌ، ← أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 4187
