مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ وَضْعِ السَّيْفِ · حديث 6070
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سُئِلَ الشَّعْبِيُّ عَنِ السَّيْفِ يُوضَعُ عَلَى بَطْنِ الْمَيِّتِ قَالَ: «إِنَّمَا يُفْعَلُ لِئَلَّا يَنْتَفِخَ، وَلَا يَضُرُّكَ أَفَعَلْتَ أَمْ لَا»، وَسُئِلَ عَنِ الْحِذَاءِ يُدْخَلُ بِهِ الْقَبْرَ قَالَ: «إِنَّمَا يُكْرَهُ كَرَاهِيَةَ الزَّلَقِ»، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: مَا أُحِبُّ أَنْ تَدْخُلَ بِالْحِذَاءِ الْقَبْرَ، وَبِهِ نَأْخُذُ
جابر بیان کرتے ہیں: امام شعبی سے دریافت کیا گیا : کہ میت کے پیٹ پر تلوار رکھنے کا کیا حکم ہے ؟ تو اُنہوں نے جواب دیا: ایسا اس لیے کہا جاتا ہے تاکہ پیٹ بھول نہ جائے تم یہ کرتے ہو یا نہیں کرتے اس سے تمہیں کوئی گناہ نہیں ہو گا ۔ امام شعبی سے جوتوں سمیت قبر میں اترنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اُنہوں نے فرمایا: پھیسلنے کے اندیشہ کی وجہ سے اسے مکروہ قرار دیا گیا ہے ۔ امام عبدالرزاق کہتے ہیں: مجھے بھی یہ بات پسند نہیں ہے کہ تم قبر میں جوتوں سمیت داخل ہو ہم اس کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں۔
عَبْدُ الرَّزَّاقِ: مَا أُحِبُّ أَنْ تَدْخُلَ بِالْحِذَاءِ الْقَبْرَ، وَبِهِ نَأْخُذُ ← «إِنَّمَا يُكْرَهُ كَرَاهِيَةَ الزَّلَقِ»، ← الْحِذَاءِ يُدْخَلُ بِهِ الْقَبْرَ ← «إِنَّمَا يُفْعَلُ لِئَلَّا يَنْتَفِخَ، وَلَا يَضُرُّكَ أَفَعَلْتَ أَمْ لَا»، وَسُئِلَ ← السَّيْفِ يُوضَعُ عَلَى بَطْنِ الْمَيِّتِ ← سُئِلَ الشَّعْبِيُّ ← جَابِرٍ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 6070
