مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ بَعْدَمَا يُدْفَنُ · حديث 6538
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ إِنْسَانًا كَانَ يَقُومُ عَلَى الْمَسْجِدِ فَيُنَقِّي مِنْهُ الشَّيْءَ يَجِدُهُ، فَتُوُفِّيَ فَسَأَلَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِأَيَّامٍ فَقَالُوا: تُوُفِّيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «فَهَلَّا آذَنْتُمُونِي، فَإِنَّ صَلَاتِي عَلَيْهِمْ نُورٌ فِي قُبُورِهِمْ»
حضرت ابو رافع بیان کرتے ہیں: ایک شخص مسجد کی دیکھ بھال کیا کرتا تھا اور اگر اُسے کوڑا کر کٹ وغیرہ نظر آتا تھا تو اُسے صاف کر دیتا تھا اُس کا انتقال ہو گیا اس کے کچھ دن گزر نے کے بعد نبی اکرمﷺ نے اُس کے بارے میں دریافت کیا: تو لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ! اُس کا تو انتقال ہو گیا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا میران لوگوں کے لیے نماز جنازہ ادا کرنا ان کی قبروں میں ان کے لیے نور ہوتا ہے۔
أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 6538
