مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابُ اسْتِتَابَتِهِ عِنْدَ الْحَدِّ، وَحَسْمِ يَدِ الْمَقْطُوعِ · حديث 13583
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَالثَّوْرِيِّ، عَنِ ابْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ قَالَ: أُتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ سَرَقَ شَمْلَةً فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا قَدْ سَرَقَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا إِخَالُهُ يَسْرِقُ، أَسَرَقْتَ؟» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فَاذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوا يَدَهُ، ثُمَّ احْسِمُوهَا، ثُمَّ ائْتُونِي بِهِ» فَأَتَوْا بِهِ، فَقَالَ: «تُبْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ». قَالَ: فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ. قَالَ: «اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ». عَبْدُ الرَّزَّاقِ، [ص:390]
13583 – محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس نے ایک چادر کو چوری کیا تھا عرض کی گئی یا رسول اللہ! اس شخص نے چوری کی ہے نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میرا نہیں خیال کہ اس نے چوری کی ہو گی کیا تم نے چوری کی ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں! نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم لوگ اسے لے جاؤ اور اس کا ہاٹھ کاٹ دو پھر اس ہاتھ داغ لگا دو۔
أُتِيَ النَّبِيَّ بِرَجُلٍ سَرَقَ شَمْلَةً فَقِيلَ: ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← ابْنِ خُصَيْفَةَ، ← ابْنِ جُرَيْجٍ، وَالثَّوْرِيُّ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Chapter of restoring it at the boundary, and settling the severed hand · Hadith 13583
