مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَنْ قَالَ لَا يُتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ · حديث 646
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ خَالِهِ قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يوْمَ الْجُمُعَةِ يُبَيَّتُ لَهُ فِي بَيْتِ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ فَيُحَدِّثُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَخْبِرْنِي مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «لَا أُخْبِرُكَ إِلَّا مَا رَأَيْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ فِي بَيْتِهِ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْبَابِ لُقِيَ بِصَحْفَةٍ فِيهَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ فَرَجَعَ بِأَصْحَابِهِ فَأَكَلَ وَأَكَلُوا، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»
محمد بن اسحاق اپنے ماموں کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کی حضرت عبداللہ بن عباس جمعہ کے دن اپنی خالہ سیدہ میمونہ کے ہاں رات بسر کیا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ وہ بات چیت کر رہے تھے تو ایک شخص نے اُن سے کہا : آُ مجھے بتا ئے جو چیز آگ پر پکی ہو اُسے کھانے سے وضو لازم ہوتا ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا : میں تمہیں وہی بات بتاؤں گا جو میں نے نبی اکرم ﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا ہے نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب آپ کے گھر موجود تھے اسی دوران مؤذن آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نماز کے لئے تشریف لے جانے کے لیے کھڑے ہوئے جب آپ دروازے کی طرف پہنچے تو آپ کی خدمت میں ایک پیالہ پیش کیا گیا جس میں روٹی اور گوشت موجود تھا آپ اپنے اصحاب کے ساتھ واپس تشریف لائےآپ نے اُسے کھایا اُن حضرات نے بھی اُنہیں کھایا پھر نبی اکرم ﷺ نماز کے لیے تشریف لے گئے آپ نے ازسر نو وضو نہیں کیا تھا۔
مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، ← لَهُ رَجُلٌ: ← كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يوْمَ الْجُمُعَةِ يُبَيَّتُ لَهُ فِي بَيْتِ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ ← خَاله ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › The door of one who says not to perform ablution after touching the fire · Hadith 646
