مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابٌ الْقَوْلُ سِوَى الْفِرْيَةِ · حديث 13739
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ قَالَ: اسْتَقَامَ بِنَا سُلَيْمَانُ فِي خِلَافَتِهِ، وَمَعَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ: " كَيْفَ تَقُولُونَ فِي رَجُلٍ قَالَ لِرَجُلٍ: يَا شَارِبَ الْخَمْرِ؟ " قَالَ: قُلْنَا: يُحَدُّ، قَالَ عُمَرُ: «سُبْحَانَ اللَّهِ، مَا الْحَدُّ إِلَّا عَلَى مَنْ قَذَفَ مُسْلِمًا»
13739 - رجا ء بن حیوہ بیان کرتے ہیں: خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے اپنے عہد خلافت میں ہمیں بلوایا اس وقت ان کے پاس عمر بن عبدالعزیز بھی موجود تھے اس نے دریافت کیا : ایسے شخص کے بارے میں آپ لوگ کیا کہتے ہیں؟ جو دوسرے شخص سے یہ کہتا ہے : اے شراب پینے وعالے تو ہم نے کہا: ایسے شخص پر حد جاری ہو گی تو عمر بن عبدالعزیز نے کہا: سبحان اللہ! حد صرف اس وقت جاری ہوتی ہے جب کوئی شخص کسی مسلمان پر زنا کا الزام لگائے ۔
قُلْنَا: يُحَدُّ، ← لِرَجُلٍ: يَا شَارِبَ الْخَمْرِ؟ ← كَيْفَ تَقُولُونَ فِي رَجُلٍ ← اسْتَقَامَ بِنَا سُلَيْمَانُ فِي خِلَافَتِهِ، وَمَعَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Chapter on sayings other than blasphemy · Hadith 13739
