مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابُ الْبِكْرِ · حديث 13310
عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ لِي بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ الْخَصْمُ الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ: نَعَمْ، فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَذِنَ لِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُلْ» قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَوَلِيدَةٍ، ثُمَّ سَأَلْتُ أَهَلَ الْعِلْمِ، فَأَخْبَرُونِي إِنَّمَا عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ، وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَأَنَّ عَلَى امْرَأَتِهِ الرَّجْمَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: «الْغَنَمُ وَالْوَلِيدَةُ رَدٌّ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ، وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ لِامْرَأَةِ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا» فَغَدَا عَلَيْهَا، فَاعْتَرَفَتْ، فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَتْ
13310 - ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبداللہ کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ اور حضڑت زید بن خالد جہنی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : ایک دیہاتی شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ آپ میرے بارے میں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ دیجئے لیکن مجھے اجازت دیجئے نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم کہو! اس نے عرض کی : میرا بیٹا اس شخص کے ہاں ملازم تھا اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سنگسار کر دیا جائے گا تو میں نے اپنے بیٹے کے فدیہ کے طور پر ایک سو بکریاں اور ایک کنیز دے دی پھر میں نے اہل علم سے دریافت کیا: تو اُنہوں نے مجھت یہ بتایا کہ میرے بیٹے کو ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا اور اس کی بیوی کو سنگسار کیا جائے گا تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کر دوں گا بکریاں اور کنیز تمہیں واپس مل جائیں گی تمہارے بیٹے کو ایک سو کوڑے ؛گائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا ۔
عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Bab al-Bakr · Hadith 13310
