مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ وَقْتِ الْجُمُعَةِ · حديث 5229
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: هَلْ تَعْلَمُ مِنْ شَيْءٍ يَحْرُمُ إِذَا أُذِّنَ بِالْأُولَى سِوَى الْبَيْعِ قَالَ: «نَعَمْ، الصِّنَاعَاتُ» قُلْتُ: فَكِتَابٌ أَرَادَ إِنْسَانٌ أَنْ يَكْتُبَهُ حِينَئِذٍ؟ قَالَ: «وَلَا شَيْئًا»، قُلْتُ: فَمَتَاعٌ أَرَادَ أَنْ يُجَهِّزَهُ؟ قَالَ: «وَلَا»، قُلْتُ: فَأَرَادَ إِنْسَانٌ أَنْ يَقِيلَ حِينَئِذٍ قَالَ: «فَلَا الرُّقَادُ، وَلَا أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ حِينَئِذٍ إِذَا أُذِّنَ بِالْأُولَى» قُلْتُ: إِذَا أُذِّنَ بِالْأُولَى وَجَبَ سَاعَتَئِذٍ الرَّوَاحُ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قُلْتُ: مِنْ أَجْلِ قَوْلِهِ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ: «نَعَمْ فَلْيَدَعْ حِينَئِذٍ كُلَّ شَيْءٍ وَلْيَرُحْ»
ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا: کیا آپ کو کسی ایسی چیز کا علم ہے جو پہلی اذان ہونے کے بعد حرام ہو جائے اور خریدوفروخت کے علاوہ ہو ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! کاریگر کے کام ۔ میں نے دریافت کیا: اگر آدمی اُس وقت میں کوئی خط لکھنے کا ارادہ رکھتا ہو اُنہوں نے جواب دیا: کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ میں نے دریافت کیا: اگر آدمی کوئی سازوسامان ٹھیک کر رہا ہو ؟ اُنہوں نے جواب دیا: ایسے وقت میں سویا نہیں جا سکتا اور اس وقت میں جب پہلی اذان ہو چکی ہو تو آدمی اپنی بیوی کے پاس بھی نہیں جا سکتا ۔ میں نے دریافت کیا: کیا پہلی اذان جب ہو تی ہے تو اُسی وقت جانا لازم ہو جاتا ہے ؟ اُنہو ں نے جواب دیا : جی ہاں! میں نے دریافت کیا: کیا اس کی وجہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے ۔ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! اُس وقت میں آدمی ہر چیز چھوڑ دے گا اور چلا جائے گا ۔
ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Friday Book › The door at Friday's time · Hadith 5229
