مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِيمَا مَسَّتِ النَّارُ مِنَ الشِّدَّةِ · حديث 670
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، خَرَجَ مِنْ عِنْدِ الْحَجَّاجِ وَهُوَ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ، قُلْتُ: مَا شَأْنُكَ يَا أَبَا حَمْزَةَ؟ قَالَ: " خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ هَذَا الرَّجُلِ فَدَعَا بِطَعَامٍ لِلنَّاسِ فَأَكَلَ وَأَكَلُوا، ثُمَّ قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ وَمَا تَوَضَّئُوا - أَوْ قَالَ: فَمَا مَسُّوا مَاءً - «. كَانَ أَنَسٌ» يَتَوَضَّأُ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ "
ابو قلابہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت انس بن مالک کو دیکھا کہ وہ حجاج کے ہاں سے باہر نکلے اور وہ خود کلامی کے انداز سے بات چیت کر رہے تھے میں نے کہا : اے ابو حمزہ! آپ کا کیا معاملہ ہے ؟ اُنہوں نے فرمایا : میں اُس شخص کے ہاں سے باہر نکلا ہوں اُس نے لوگوں کے لیے کھانا منگوایا تھا اس نے بھی کھانا کھایا لوگوں نے بھی کھانا کھایا پھر یہ لوگ نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور اُنہوں نے ازسرنو وضو نہیں کیا ۔ اُنہوں نے پانی کو چھوا بھی ہیں ۔راوی بیان کرتے ہیں : حضرت انس آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے کے بعد ازسرنو وضو کرتے تھے۔
نَفْسَهُ، قُلْتُ: مَا شَأْنُكَ يَا أَبَا حَمْزَةَ؟ ← رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، خَرَجَ مِنْ عِنْدِ الْحَجَّاجِ وَهُوَ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › Chapter on what came when the fire touched with intensity · Hadith 670
