مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ اللُّقَطَةِ ‹ بَابٌ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ الْإِيمَانِ · حديث 18707
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: أَخَذَ ابْنُ مَسْعُودٍ قَوْمًا ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَكَتَبَ فِيهِمْ إِلَى عُمَرَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ: «أَنْ اعْرِضْ عَلَيْهِمْ دِينَ الْحَقِّ , وَشَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , فَإِنْ قَبِلُوهَا , فَخَلِّ عَنْهُمْ , وَإِنْ لَمْ يَقْبَلُوهَا , فَاقْتُلْهُمْ , فَقَبِلَهَا بَعْضُهُمْ , فَتَرَكَهُ , وَلَمْ يَقْبَلْهَا بَعْضُهُمْ , فَقَتَلَهُ»
18707 - عبید اللہ بن عبداللہ نے عتبہ نے اپنے والدس کا یہ بیان نقل کیا ہے حضرت عبداللہ بن مسعود نے کچھ لوگوں کو پکڑا جن کا تعلق اہل عراق سے تھا اور وہ اسلام کو چھور کر مرتد ہو گئے تھے ۔ حضرت عبداللہ نے ان لوگوں کے بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا تو حضرت عمر نے جوابی خط میں لکھا کہ تم دین حق ا ن کے سامنے پیش کرفو کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اگر وہ لوگ اس کو قبول کر لیتے ہیں تو تم انہیں چھور دینا اور اگر وہ قبول نہیں کرتے تو تم انہیں قتل کر دینا تو ان میں سے کچھ لوگوں نے اسے قبول کر لیا تو حضرت عبداللہ بن مسعود نے انہیں چھوڑ دیا اور کچھ لوگوں نے اسے قبول نہین کیا تو حضرت عبداللہ بن مسعود نے انہیں قتل کرو ا دیا ۔
فِيهِمْ إِلَى عُمَرَ ← الْإِسْلَامِ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ ← أَخَذَ ابْنُ مَسْعُودٍ قَوْمًا ارْتَدُّوا ← أَبِيهِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · Snapshot book › Chapter on disbelief after faith · Hadith 18707
