مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابُ الْأَبِ يَفْتَرِي عَلَى ابْنِهِ · حديث 13817
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي رُزَيْقٌ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ: كَتَبَ إِلَيْهِ فِي رَجُلٍ قَذَفَ ابْنَهُ أَنِ اجْلِدْهُ إِلَّا أَنْ يَعْفُوَ ابْنُهُ عَنْهُ " قَالَ: فَظَنَنْتُ أَنَّهَا لِلْأَبِ خَاصَّةً، فَكَتَبْتُ إِلَيْهِ: فَقَالَ «أَنَّهَا لِلنَّاسِ عَامَّةً»
13817 – رزیق بیان کرتے ہیں: عمر بن عبدالعزیز نے انہیں خط لکھا کہ ایک شخص اپنے بیٹے پر زنا کا الزام لگا دیتا ہے تو تم اس کو کوڑے لگاؤ البتہ اگر اس کا بیٹا اسے معاف کر دیتا ہے تو معاملہ مختلف ہو گا۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ یہ حکم باپ کے لئے خاص ہے میں نے انہیں خط لکھا توانہوں نے فرمایا: یہ حکم تمام لوگوں کے لئے ہے ۔
فَظَنَنْتُ أَنَّهَا لِلْأَبِ خَاصَّةً، فَكَتَبْتُ إِلَيْهِ: فَقَالَ «أَنَّهَا لِلنَّاسِ عَامَّةً» ← إِلَيْهِ فِي رَجُلٍ قَذَفَ ابْنَهُ أَنِ اجْلِدْهُ إِلَّا أَنْ يَعْفُوَ ابْنُهُ عَنْهُ ← رُزَيْقٌ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ: ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › The father’s door slandering his son · Hadith 13817
