مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابٌ الْحَدُّ فِي الضَّرُورَةِ · حديث 13649
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رُفْقَةً، مِنْ أَهْلِ الَيَمَنِ نَزَلُوا الْحَرَّةَ، وَمَعَهُمُ امْرَأَةٌ قَدْ أَصَابَتْ فَاحِشَةً، فَارْتَحَلُوا وَتَرَكُوهَا، فَأُخْبِرَ عُمَرُ خَبَرَهَا فَسَأَلَهَا، فَقَالَتْ: كُنْتُ امْرَأَةً مِسْكِينَةً لَا يَعْطِفُ عَلَيَّ أَحَدٌ بِشَيْءٍ، فَمَا وَجَدْتُ إِلَّا نَفْسِي قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَى رُفْقَتِهَا، فَرَدُّوهُمْ، وَسَأَلَهُمْ عَنْ حَاجَتِهَا، فَصَدَّقُوهَا فَجَلَدَهَا مِائَةً، وَأَعْطَاهَا، وَكَسَاهَا، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَحْمِلُوهَا مَعَهُمْ "
ہشام بن عروہ نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : یمن سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ مدینہ منورہ کے قریب پتھر یلے میدان میں آکر ٹھہرے ان کے ساتھ ایک خاتون بھی تھی اس نے زنا اکا ارتکاب کیا اس کے ساتھی وہاں سے روانہ ہو گئے اور اسے وہیں چھوڑ گئے حضرت عمر کو ایک خاتون کی صورت حال کے بارے میں بتایا گیا تو حضرت عمر نے اس خاتون سے دریافت کیا: تو اس نے بتایا کہ میں ایک غریب عورت ہوں مجھے کسی نے بھی کچھ نہیں دیا تو میرے لئے اپنی ذات کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا/
هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › The chapter on the boundary of necessity · Hadith 13649
