مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابُ الرَّجْمِ، وَالْإِحْصَانِ · حديث 13337
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبِكَ جُنُونٌ؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «أَحْصَنَتَ؟» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ، فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرًا» وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ. قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا أُخْبِرَ رَسُولُ [ص:321] اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ فَرَّ قَالَ: " فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ - أَوْ قَالَ: فَلَوْلَا تَرَكْتُمُوهُ - ". قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ: لَمَّا رَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَسْلَمِيَّ، قَالُ: «وَارُوا عَنِّي مِنْ عَوْرَاتِكُمْ مَا وَارَى اللَّهُ مِنْهَا، وَمَنْ أَصَابَ مِنْهَا شَيْئًا، فَلْيَسْتَتِرْ»
13337 - ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے حضرت جابر بن عبداللہ کا یہ بیان نقل کیا ہے : اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے زنا کا اعتراف کیا نبی اکرمﷺ نے اس سے منہ پھیر لیا اس نے پھر اعتراف کیا تو نبی اکرؐﷺ نے پھر اس سے منہ پھیر لیا یہاں تک کہ اس نے اپنے خلاف چار مرتبہ گواہی دے دی تو نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : کیا تم پاگل ہو ؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں! نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: تم محصن ہو ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں! طاؤس کے صاحبزادے نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : جب نبی اکرمﷺ کو یہ بات بتائی گئی کہ وہ بھاگ کھڑا ہوا تھا تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم لوگوں نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا ؟ معمر نے ایوب کے حوالے سے حمید بن ہلال کا یہ بیان نقل کیا ہے : جب نبی اکرمﷺ نے اسلمی شخص کو سنگسار کروایا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہارے ان پوشیدہ معاملات کو پردے میں رکھتا ہے تو تم بھی مجھ سے انہیں پردے میں رکھو اور جو شخصو اسی طرح کے کسی جرم میں مبتلا ہو تو اسے پردہ اختیار کرنا چاہیے ۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Chapter of stoning, and compassion · Hadith 13337
