مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابُ الْمُتْعَةِ · حديث 14033
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِي، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: أَرْخَصَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي الْمُتْعَةِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ: «مَا هَذَا يَا أَبَا عَبَّاسٍ؟» فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فُعِلَتْ مَعَ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ. فَقَالَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ: «اللَّهُمَّ غُفْرًا، إِنَّمَا كَانَتِ الْمُتْعَةُ رُخْصَةً كَالضُّرُورَةِ إِلَى الْمَيْتَةِ، وَالدَّمِ، وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ، ثُمَّ أَحْكَمَ اللَّهُ تَعَالَى الدِّينَ بَعْدُ»
14033 - زہری نے خالد بن مہاجر بن خالد کا یہ بیان نقل کیا ہے : حضرت عبداللہ بن عباس متعہ کےبارے میں رخصت دیتے تھے تو ابن ابو عمرہ انصاری نے اُن سے کہا: اے ابو عباس ! یہ کیا ہے ؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا: یہ کام پر ہیز گاروں کے امام کی موھودگی میں کیا گیا ہے تو ابنابو عمرہ نے کہا: اے اللہ! تجھے مغفرت کا سوال ہے متعہ ایک رخصت تھی جس طرح آدمی مرد ار یا خون یا خنزیر کا گوشت کھانے پر مجبور ہو جاتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دین کو محکم کر دیا تھا ۔
ابْنُ عَبَّاسٍ: فُعِلَتْ مَعَ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ. ← لَهُ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ: «مَا هَذَا يَا أَبَا عَبَّاسٍ؟» ← أَرْخَصَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي الْمُتْعَةِ، ← خَالِدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ خَالِدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › The door of pleasure · Hadith 14033
