مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابُ الْمُتْعَةِ · حديث 14021
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: لَأَوَّلُ مَنْ سَمِعْتُ مِنْهُ الْمُتْعَةَ صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى قَالَ: أَخْبَرَنِي، عَنْ يَعْلَى، أَنَّ مُعَاوِيَةَ [ص:497]، اسْتَمْتَعَ بِامْرَأَةٍ بِالطَّائِفِ فَأَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَدَخَلْنَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ لَهُ بَعْضُنَا، فَقَالَ لَهُ: «نَعَمْ». فَلَمْ يَقِرَّ فِي نَفْسِي حَتَّى قَدِمَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَجِئْنَاهُ فِي مَنْزِلِهِ فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ عَنْ أَشْيَاءَ، ثُمَّ ذَكَرُوا لَهُ الْمُتْعَةَ، فَقَالَ: " نَعَمْ، اسْتَمْتَعْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ خِلَافَةِ عُمَرَ، اسْتَمْتَعَ عَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ بِامْرَأَةٍ سَمَّاهَا جَابِرٌ فَنَسِيتُهَا، فَحَمَلَتِ الْمَرْأَةُ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ فَدَعَاهَا فَسَأَلَهَا، فَقَالَتْ: نَعَمْ قَالَ: مَنْ أَشْهَدَ؟ قَالَ: عَطَاءٌ لَا أَدْرِي قَالَتْ: أُمِّي أُمَّ وَلِيَّهَا قَالَ: فَهَلَّا غَيْرَهُمَا قَالَ: خَشِيَ أَنْ يَكُونَ دَغْلًا الْآخَرُ، قَالَ عَطَاءٌ، وَسَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «يَرْحَمُ اللَّهُ عُمَرَ مَا كَانَتِ الْمُتْعَةُ إِلَّا رُخْصَةً مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ رَحِمَ بِهَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَوْلَا نَهْيُهُ عَنْهَا مَا احْتَاجَ إِلَى الزِّنَا إِلَّا شَقِيٌّ» قَالَ: كَأَنِّي وَاللَّهِ أَسْمَعُ قَوْلَهُ: إِلَّا شَقِيٌّ - عَطَاءٌ الْقَائِلُ - قَالَ عَطَاءٌ: " فَهِيَ الَّتِي فِي سُورَةِ النِّسَاءِ: {فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ} [النساء: 24] إِلَى كَذَا وَكَذَا مِنَ الْأَجَلِ عَلَى كَذَا وَكَذَا لَيْسَ يُتَشَاوَرُ " قَالَ: «بَدَا لَهُمَا أَنْ يَتَرَاضِيَا بَعْدَ الْأَجَلِ، وَأَنْ يَتَفَرَّقَا فَنَعَمْ، وَلَيْسَ بِنِكَاحٍ»
14021 - ابن جریح نے عطا ء کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں نے پہلی مرتبہ متعہ کا ذکر سفیان یعلیٰ سے سنا تھا جنہوں نے یعلیٰ کے حوالے سے یہ بات بتائی حضرت معاویہ نے طائف رہنے والی ایک خاتون سے متعہ کیا تو میں نے اس بات پر اُن کا انکار کیا پھر میں حضرت عبداللہ بن عباس کی خدمت میں حاضر ہوا تو ہم میں سے کسی نے اُن کے سامنے یہ بات ذکر کی تو انہوںنے جواب دیا: جی ہاں! راوی کہتے ہیں: مجھے پھر بھی الجھن رہی یہاں تک کہ حضرت جابر بن عبداللہ تشریف لائے تو ہم ان کے ہاں ان سے ملنے کے لئے گئے حاضرین نے ان سے مختلف چیزوں کے بارے میں سوا کیے پھر لوگوں نے ان کے سامنے متعہ کا ذکر کیا تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقداس میں حضرت ابو بکر کے زمانہ میں اور حضرت عمر کے زمانے میں ہم متعہ کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ حضرت عمر کے دور خلافت کے آخری دور میں عمرو بن حریت نے ایک خاتون کے ساتھ متعہ کیا حضرت جابر نے اس خاتون کا نام ذکر کیا تھا راوی کہتے ہیں: لیکن وہ نام بھول گیا ہوں تو اس کے نتیجے میں وہ خاتون حاملہ ہو گئی تو اس کی اطلاع حضرت عمر کو ملی تو حضرت عمر نے اس عورت کو بلوایا اور اس سے دریافت کیا: تو اس نے جواب دیا: جی ہاں! راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! گویا کہ میں اس وقت بھی انہیں یہ کہتے ہوئے سن رہا ہوں کوئی بد بخت اس جملے کے قائل عطا ء ہیں۔ عطا ء بیان کرتے ہیں: تو یہ وہی چیز ہے جس کا ذکر سورہ نساء میں ہے ۔ تو تم ان خواتین میں سے جس سے متعہ کر لو۔
يعلى ← مِنْهُ الْمُتْعَةَ صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى ← لَأَوَّلُ مَنْ ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › The door of pleasure · Hadith 14021
