مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابُ لَبَنِ الْفَحْلِ · حديث 13937
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقَعِيسِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا، فَقَالَ: إِنِّي عَمُّهَا، فَأَبَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفَلَا أَذِنْتِ لِعَمِّكَ» قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ قَالَ: «فَأْذَنِي لَهُ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ تَرِبَتْ يَمِينُكِ». قَالَ: «وَكَانَ أَبُو الْقَعِيسِ زَوْجَ الْمَرْأَةِ الَّتِي أَرْضَعَتْ عَائِشَةَ». عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
13937 - عروہ نے سیدہ عائشہ کا یہ بیان نقل کیا ہے : ابو القعیس کے بھائی افلح آئے انہوں نے سیدہ عائشہ کے ہاں آنے کی اجازت مانگی اور یہ کہا: میں آپ کا چچا ہوں تو سیدہ عائشہ نےا نہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا جب نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم نے اپنے چچا کو اجازت کیوں نہیں دی ؟ سیدہ عائشہ نے عرض کی : یا رسول اللہ! مجھے عورت نے دودھ پلایا تھا مجھے مرد نے دودھ نہیں پلایا تھا نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم نے اسے اجازت دے دینی تھی وہ تمہارا چچا بنتا ہے تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔
جاء أفلح أخو أبي القعيس يستأذن عليها ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Bab al-Fahal · Hadith 13937
