مصنف عبدالرزاق · كتاب الطهارة ‹ بَابُ سُؤْرِ الْهِرِّ · حديث 352
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ امْرَأَةٍ، عَنْ أُمِّهَا، وَكَانَتْ تَحْتَ أَبِي قَتَادَةَ - أَنَّ أُمَّهَا أَخْبَرَتْهَا، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ زَارَهُمْ فَسَكَبُوا لَهُ وَضُوءًا فَدَنَتْ مِنْهُ هِرَّةٌ فَأَصْغَى إِلَيْهَا الْإِنَاءَ الَّذِي فِيهِ، وَضُوؤُهُ فَشَرِبَتْ مِنْهُ، ثُمَّ تَوَضَّأَ بِفَضْلِهَا فَعَجِبُوا مِنْ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ»
اسحاق بن عبداللہ نے ایک خآتون کے حوالے سے اُس کی والدہ کے حوالے سے نقل کی ہے جو حضرت ابو قتادہ کی اہلیہ تھی وہ خاتون بیان کرتی ہیں کہ اُن کی والدہ نے اُنہیں بتایا کہ ایک مرتبہ حضرت ابوو قتادہ اُن لوگوں کو ملنے کے لئے آئے اُن لوگوں نے حضرت ابو قتادہ کو وضو کا پانی دیا اسی دوران ایک بلی اُن کے قریب آگئی تو اُنہوں نے وہ برتن اُس بلی کی طرف کر دیا جس میں پانی موجود تھا اُس بلی نے اُس میں سے پی لیا پھر حضرت ابو قتادہ نے اُس بلی کے بچائے ہوئے پانی سے وضو کر لیا ۔ وہ لوگ اس بات پر حیران ہوئے تو حضرت ابو قتادہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : کہ بلی نجس نہیں ہوتی ہے بلکہ یہ تمہارے ہاں آنے والے جانوروں میں شامل ہے ۔
أُمِّهَا، وَكَانَتْ تَحْتَ أَبِي قَتَادَةَ ← امْرَأَةٌ ← إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Purity › Chapter of the secret stories · Hadith 352
